جمعہ، 19 جون، 2020

آخر وہ کون سی چیز ہے


آخر وہ کون سی چیز ہے، جو ممللکتِ خدادا پاکستان میں اسلام کو نظام کی شکل میں عدل و انصاف کرنے پاکستان کو ایک حقیقی آزاد اور خود مختار ریاست بننے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔آج کی دنیا جس میں آزادی اظہارِ رائے کی ہر طرف صدائیں لگائی جاتی ہیں، مگر ان صداؤں میں پاکستانی میڈیا اور سیاست دانوں کی کہیں کوئی  ایسی آواز سنائی نہیں دیتی کہ ملک و قوم کے لئے اور حق و سچ کے لئے ان کی کوئی کوشش و کاوش کہیں دیکھائی یا سنائی پڑے ۔اب جبکہ امریکی عوام اور پوری دنیا یہ حقیقت جان چکی ہے کہ کرونا وائرس ایک سوچی سمجھی دہشتگردی  اور شرارت ہے اور اس دہشتگردی کا  فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ کون ہے جس کو لوگوں کی اجتماعیت سے خوف اور مسئلہ ہے ، کون ہے جو مذہب اور خدا سے چھٹکارا چاہتا ہے؟ کون ہے جو اپنے علاوہ دیگر تمام انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے؟آخر وہ کون سی ایسی چیز ہے جس نے روئے زمین کے تمام لوگوں کو حق اور سچ بولنے سے روک رکھا ہے۔حکمرانوں کی تو بات کرنا ہی فضول ہے یہ حکمران بننے سے پہلے اس دجالی سسٹم کے اتنے طواف کر چکے ہوتے ہیں کہ  کرسی تک آتے آتے ان کے  ہوش و حواس کھو چکے ہوتے ہیں  اور انہیں سودھ بودھ ہی نہیں رہتی کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔

صحافت ایک ایسا ناسور ہے، جو مسلمان حکمرانوں کو الجھانے اور ان کے فیصلوں کی راہ میں  رکاوٹ ڈالنے کا ایک  طریقہ اورہتھیار ہے۔ اسی صحافت کے  ذریعے مسلمان میں سے جرائم پیشہ کمزور لوگ جن کا مقصد دنیا کا مال ہوتا ہے ان کے ذہنوں میں اپنے مطلب کی کہانی ڈالی جاتی ہے اور پھر انہیں ریاست اور حکومت کے سامنے ایک رہنما، صحافی یا پھر ایک آزاد سیاح بنا کر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے اور ناہی کوئی مقصد۔  لیکن کسی مرد خدا میں انہیں ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں ہے۔
صحافت کے بارے میں جو ایک روایت سنتے آرہے ہیں کہ مملکت کے ستونوں میں سے ایک ستون ہیں۔ یہ نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ یہ  ایک ہتھیار ہے ۔رہی یہ بات کہ پریس صحافت اورمیڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے !
 اچھا اگر یہ ستون ہے تو اس کا  کام تو مثبت ہونا چاہیے؟ جبکہ یہ ستون تو  مثبت سے زیادہ منفی کردار ادا کر رہا ہے۔اس ستون کی حقیقت راہ میں روڑے اٹکانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ستون ایک رخنہ ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔خلافت عثمانی کے دور میں باقائدہ ایک منظم صورت میں بادشاہوں کے گرد علماء مفتیٰ اور صوفیاء کی شکل میں لوگو موجود رہتے تھے  ان کی جگہ رفتہ رفتہ ایسے لوگوں کو داخل کیا گیا جن کا مقصد بادشاہوں کو  روز نئے اور متاثر کن وقعات   اورحالات سے اۤگاہ کرنا ہوتا تھا جو قدرِ خوشامد پرستیبھی کرتے تھے یوں رفتہ رفتہ  ایک غیر محسوس طریقے سے ایک ایسا طبقہ پیدا کر لیا گیا جسے بعدازاں اور آج صحافت اور  ستون کے نام دئیے جا رہے ہیں ۔ آخری خلیفہ سلطان عبدلحمید  کے یہ الفاظ اس بات پر دلیل اور  ثبوت ہیں کہ تم  یہودیوں پر ہم مسلمانوں کے بے شمار احسانات ہیں لیکن اس کے باوجود تم مختلف طریقوں سے ہم مسلمانوں کے خلاف لکھتے ہوبلکہ تمہارے کچھ لوگ خاص طور پر اس مقصد کے لئے باقائدہ  منظم انداز میں چھاپا خانے (پریس) چلا رہے ہیں اور باقائدگی سے لوگوں میں غلط باتیں پھیلا رہے ہیں۔
یہ ہے وہ ستون جو ریاست  کے اندر ریاست بنانے کا کام کرتا ہے۔ اور یہی کام آج وہ پاکستان میں کر رہے ہیں اگر کسی کو شک ہے تو میں ایسے آدمی کو  اس قابل ہی نہیں سمجھتا کہ اس سے بات کی جائے اور اسے دلائل دئیے جائیں۔
اگر ایک اچھی اور ذمہ دار حکومت  کو کام کرنا ہو تو سب سے پہلے اسے کچھ بنیادی کام کرنے ہونگے۔ اگر یہ نہیں ہوتے یا نہیں کیئے جا سکتے تو  آپ ایک ہزار سال بھی جمہوری تابوت کا طواف کرتے رہیں مسائل  اور کرپشن  کے ساتھ آپ کا ملک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہوجائے گا۔
سب سے پہلے یہ سمجھ لیں آپ کو اپنا خود کا ایک مکمل نظام حکومت بنانا ہے ، جیسےکوئی ملک اپنے انتہائی قیمتی اور خطرناک ایٹمی ہتھیاروں کے لئے ایک مکمل فول پروف نظام تشکیل دیتا ہے۔ بلکل اسی طرح آپ کو اپنا ایک خود کار نظام حکومت تشکیل دینا ہے جس میں کہیں کوئی سکیورٹی، معیار  کا نقص اور کمزاروی نہ ہو۔ سو فیصد درست اور قابل عمل نظام ہونا چاہیے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی شیطانی دماغ اس میں سے راستہ نکالتا ہے تو اک لمحے سے پہلے ایسے بندے کو آگلے جہاں روانہ کر دیا جائے۔
آگے آنے والے حالات اس قدر مشکل اور خوفناک ہیں اس کا اندازہ  صرف اس ایک بات سے لگا لیں کہ پوری دنیا میں مسلم ممالک کے تمام حکمرانوں کی حیثیت ایک منیجر سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہو گی۔ جس کا  کام عالمی  حکومت کے لئے اپنے اپنے علاقے سے ٹیکس  اکٹھا کرنا اور دیگر امور کی نگرانی کرنا ہوگا۔ کیا یہی کچھ آج کی حکومتیں نہیں کر رہیں ؟  زرا سوچیں تو سہی کیا آپ کے حکمران  اور بلخصوص عدلیہ آپ کی خواہشوں  اور آمنگوں کے عین مطابق کام کر رہی ہیں؟ایسا   نہیں ہے ! تو پھر جان لیں ! ایسا جان بھوج کے کیا جا رہا ہے، اس کے بعد ریفامز آئیں گے جسے تبدیلی کا نام دیا جائے گا( جاہل اسے عمران خان سے نتھی کریں گے) لوگوں کو ایک ایسا انصاف دیا جائے گا جو وقعی میں نظر آئے گا۔   تاکہ لوگ نئی دجالی حکومت کو سر آنکھوں پر بیٹھا کر قبول کریں اور دجال کو سجدہ کریں۔ لیکن اس نظر آنے والے انصاف کو صرف اور صرف  وہی لوگ پہچانیں گے جنہیں میرا رب دونوں آنکھوں کا نور عطا فرمائے گا کیونکہ اس میں بھی دجل ہو گا۔
بس اب جمہوریت کے تابوت کا طواف بند ہونا چاہیے ۔ بہت ہو گیا یہ کھیل ہمیں شرم آنی چاہیے  ، بے حسی اور غیر ذمہ داری کی ہم نے ہر حد پار کر ڈالی ہے۔ جاؤ دیکھو اگر حکومت دیکھنی ہے تو اسرائیل کی دیکھو جہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی ۔
میڈیا کے تمام لائسنس کنسل  کر کے انہیں بند کریں۔ یہاں میں ایک پیشنگوئی کہہ لیں یا ایک بات بتانے لگا ہوں کہ " امام مہدی علیہ السلام  کو جو کامیابیاں ملیں گی تو اس کے پیچھے اصل قوت آپ کے درست فیصلوں کی ہو گی اللہ پاک نے انہیں یہی ایک خوبی اور وصف دے رکھا ہو گا کہ وہ حالات کا تجزیہ کر کے درست فیصلے پر پہنچ جایا کریں گے۔ اور مجھ ناچیز کی رائے میں وہ سب سے پہلا اقدام اسی میڈیا کے نیٹ ورک کو توڑ نے کا کریں  گے۔ کیونکہ آج سب سے بڑ ا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ریاست اور حکومت کچھ اور کہہ رہی ہوتی ہے اور دجالی میڈیا  اسی بات کو کسی اور ہی رنگ میں پیش کر رہا ہوتا ہے۔  میڈیا  ہتھیار ہے۔
          
آہ قومی دل زحق پرداختہ
مردومرگ خویش را نشناختہ

افسوس ہے ایسی قوم پر جس نے حق سے دل ہٹا لیا ، جو مر چکی ہے ، لیکن اپنی موت کو پہچانتی نہیں ہے۔
اقبالؒ

کسی بھی ملک قوم کا انحصار ان چار بنیادی ستونوں کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ اگر ہم 1441سو سال پیچھے ریاست مدینہ  کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں سب سے اہم  یہی چار چیزیں ملتی ہیں جن پر فوکس کر کے نبی کریمﷺ نے  انتہائی مختصر وقت 23 سال میں انقلاب بھرپہ کر دیا تھا۔اس انقلاب کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ  ہجرت کے بعد آپؐ  کے رفاقہ اور ساتھیوں میں ایسے بے شمار لوگ تھے جن کے پورے پورے خاندانوں نے اسلام قبول نہیں کیاتھا جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا وہ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے اور باقی افراد خانہ مکہ میں ہی قیام پزیر تھے۔ یہ ایک غیر معمولی صورت حال تھی ، لیکن اس سے بھی بڑھ کر پہلی جنگ (جنگ بدر) میں خون کے رشتے آمنے سامنے تلواریں سونتے صف آرا تھے۔
میں جس نقط اور خاص چیز کی جانب توجہ دلانا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ نیچے دئیے گئے چاروں مندجات کاتعلق ایک خاص  پس منظرسے ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔

سب اپنے نظریے پاس رکھو ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں

بیدار پاکستان

منگل، 12 مئی، 2020

یہود و ہنود میں حیرت انگیز مماثلت

یہود و ہنود میں حیرت انگیز مماثلت ہے ۔۔۔۔۔

سود خور یہودی اور سود خور بنیا ضرب المثل ہیں ۔

یہودی اور ہندو دونوں ہی اپنی مکاری اور سازش کے لیے بھی مشہور ہیں ۔
ہندوؤں میں برہمن خود کو اعلی سمجھتے ہیں اور باقی انسانوں بشمول ہندوؤں تک کو رذیل حتی کہ جانوروں سے بھی بدتر سمجتھے ہیں اور انکو چھونا تک حرام سمجتھے ہیں ۔ یہی حال یہودیوں کا ہے اور جو خود کو اعلی اور برگزیدہ سمجھتے ہیں اور باقی انسانوں کو " گوئم " یعنی انسان اور جانور کی درمیانی مخلوق قرار دیتے ہین ۔
یہاں کچھ لوگوں کا یہ دعوی بھی سچ ہی لگتا ہے کہ ہندوؤں میں برہمن دراصل مصر سے آئے ہوئے یہودی ہیں ۔ وہ اس کے لیے مختلف دلائل دیتے ہیں ۔ آپ نوٹ کیجیے کہ آج تک برہمنوں کو "مصر جی" بھی کہا جاتا ہے ۔
یہودی مسجد اقصی کو شہید کر کے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہندو بابری مسجد کو شہید کر کے رام مندر بنانا چاہتے ہیں ۔
ہندوؤں نے کشمیر پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے جبکہ یہودیوں نے فلسطین پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے ۔
اہل یہود نے گائے کا بچڑا بنایا تھا ااور اسکے آگے جھک گئے تھے۔ ہندو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور اسکے آگے جھکتے ہیں۔
پاکستان کے معاملے میں انکی یہ مماثلت اور بھی حیرت انگیز ہو جاتی ہے ۔
یہودی گریٹر اسرائیل بنانا چاہتے ہیں اور پاکستان کو سب سے بڑی رکاؤٹ خیال کر تے ہیں ۔ جبکہ ہندو اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے ہیں اور پاکستان کو ہی اس میں سب سے بڑی رکاؤٹ خیال کرتے ہیں ۔
کچھ لوگ پاکستان کو مدینہ کے بعد دوسری اسلامی نظریاتی ریاست قرار دیتے ہیں اگر یہ درست مان لیا جائے تب معاملہ مزید دلچسپ ہو جاتا ہے ۔
مدینے کو ایک طرف یہودیوں سے خطرہ تھا اور دوسری طرف مکہ کے مشرکوں سے ۔
پاکستان کو بھی ایک طرف یہودیوں سے خطرہ ہے یعنی اسرائیل کی ریاست سے اور دوسری طرف ہندوؤں سے جو کہ مشرکین کی سب سے بڑی ریاست ہے اس وقت ۔
مدینے کے خلاف بھی مشرکین اور یہودیوں کا اتحاد ہوا تھا جبکہ پاکستان کے خلاف بھی یہودیوں اور ہندوؤں (مشرکین ) کا اتحاد ہے جس سے ہم واقف ہیں۔
اب اگر ہم اس سارے معاملے میں غزوہ ہند کی مشہوری حدیث کو شامل کرتے ہیں تو پاکستان کو بیک وقت ہندو (مشرکین ) اور یہودیوں سے جنگ درپیش ہوگی ۔ اور جس طرح مدینے کی ریاست نے ان دونوں طاقتوں پر غلبہ پا لینے کے بعد آدھی دنیا پر غلبہ پا لیا تھا اسی طرح جب اللہ پاکستان کے ہاتھوں انڈیا اور اسرائیل کا خاتمہ فرمائے گا تو اسلام کو دنیا پر غالب ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکے گی ۔
اور یاد رکھیے غزوہ ہند والی حدیث پر پاکستان کے علاوہ کوئی اور اسلامی ملک پورا نہیں اترتا کیونکہ پاکستان دنیا کے 56 اسلامی ممالک میں سے واحد ملک ہے جس کی بیک وقت انڈیا اور اسرائیل دونوں سے دشمنی ہے ۔ باقی اسلامی ملکوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔
پاکستان کو ہی اللہ نے بہادر پاک فوج ، نہایت اعلی نیوکلیر میزائل پروگرام اور جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین کی بہت بڑی قوت سے لیس کر رکھا ہے ۔۔۔۔
مجھے تو اس ساری صورت حال میں بہت سی باتیں عجیب اور دلچسپ لگتی ہیں آپکا کیا خیال ہے ؟؟؟ کیا اللہ ہم سے کوئی خاص کام لینے والا ہے ؟؟؟





جمعرات، 7 مئی، 2020

عمل اور نیّت

عمل اور نیّت
جلالؔ

برائی یا بھلائی کا جہاں تک تعلّق ہے، کوئی عمَل دنیا میں بُرا ہے نہ اچھا ہے۔ دراصل کسی عمَل میں معانی پہنانا، اچھائی یا برائی ہے۔ معانی پہنانے سے مراد نیت ہے۔ عمَل کرنے سے پہلے انسان کی نیت میں جو کچھ ہوتا ہے وہی خیر یا شر ہے۔
آگ کا کام جلا نا ہے ایک آدمی لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے آگ کو کھانا پکانے میں استعمال کرتا ہے تو یہ عمَل خیر ہے۔ وہی آدمی اس آگ سے لوگوں کے گھروں کو جلا ڈالتا ہے تو یہ برائی ہے۔
جن قوموں سے ہم مرعوب ہیں اور جن قوموں کے ہم دستِ نگر ہیں، اُن کی طرزِ فکر کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سورج کی طرح رَوشن ہے کہ سائنس کی ساری ترقی کا زور اس بات پر ہے کہ ایک قوم اقتدار حاصِل کرے اور ساری نَوعِ انسانی اس کی غلام بن جائے…. یا ایجادات سے اتنے ما لی فوائد حاصِل کئے جائیں کہ زمین پر ایک مخصوص قوم یا مخصوص ملک مال دار ہو جائے اور نَوعِ انسانی غریب اور مَفلوکُ الحال بن جائے…. کیونکہ اس ترقی میں اللہ کے ذہن کے مطابق نَوعِ انسانی کی فلاح مُضمِر نہیں ہے اس لئے یہ ساری ترقی نَوعِ انسانی کیلئے اور خود اُن قوموں کیلئے جنہوں نے جدّوجہد اور کوشش کے بعد نئی نئی ایجادات کی ہیں، مصیبت اور پریشانی بن گئی ہے۔ مصیبت اور یہ پریشانی ایک روز اَدبار بن کر زمین کو جہنم بنا دے گی۔
جب تک آدمی کے یقین میں یہ بات رہتی ہے کہ چیزوں کا مَوجود ہونا یا چیزوں کا عدم میں چلے جانا اللہ کی طرف سے ہے، اس وقت تک ذہن کی مَرکزیت قائم رہتی ہے اور جب یہ یقین غیر مستحکم ہو کر ٹُوٹ جاتا ہے تو آدمی ایسے عقیدے اور ایسے وسوسوں میں گرفتار ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ ذہنی اِنتشار ہوتا ہے، پریشانی ہوتی ہے، غم اور خوف ہوتا ہے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو یہ بات با لکل سامنے کی ہے کہ انسان کا ہر عمَل، ہر فعل، ہر حرکت کسی ایسی ہستی کے تابع ہے جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ ماں کے پیٹ میں بچے کا قیام، نَو مہینے تک نشونما کے لیے غذا کی فراہمی، پیدا ہونے سے پہلے ماں کے سینے میں دودھ، پیدائش کے بعد دودھ کی فرا ہمی، دودھ کی غذائیت سے ایک اعتدال اور توازن کے ساتھ بچے کا بڑھنا، چھوٹے سے بچے کا بڑھ کر سات فٹ تک ہو جانا، جوانی کے تقاضے، ان تقاضوں کی تکمیل میں وسائل کی تکمیل، وسائل فراہم ہونے سے پہلے وسائل کی مَوجودگی۔ اگر اللہ زمین کو منع کر دے کہ وہ کھیتیاں نہ اُگائے تو حصولِ رزق مَفقود ہو جائے گا۔ شادی کے بعدوالدین کے دل میں یہ تقاضا کہ ہمارا کوئی نام لینے والا ہو، اس درجے میں اِنتہائی درجہ شدّت اور اس کے نتیجے میں ماں باپ بننا، ماں باپ کے دل میں اولاد کی محبّت پیدا ہونا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر اللہ والدین کے دل میں محبّت نہ ڈالے تو اولاد کی پرورش کیسے ہو سکتی ہے؟ اولاد کی پرورش کیلئے ماں باپ کے دل میں اولاد کی محبّت صرف آدمیوں کیلئے مخصوص نہیں بلکہ یہ جذبہ اللہ کی ہر مخلوق میں مُشترَک ہے اور اسی محبّت کے سہارے ماں باپ اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ نگہداشت کرتے ہیں اور ان کیلئے وسائل فراہم کرتے ہیں۔

پیر، 7 اکتوبر، 2019

نظاموں کا ٹکراؤ

نظام اسلامی سے جمہوریت کا ٹکراؤ


روئے زمین پر جتنے نظام پائے جاتے ہیں وہ اپنے نصب العین اور دعاوی کے لحاظ سے مکمل ہوا کرتے ہیں، جس سے مراد یہ ہے کہ اس نظام سلطنت کی بنیاد، کسی اصول طراز کی فکر پر قائم ہوتی ہے اور اسی فکر کے مطابق نظامِ سلطنت کی توسیع و تکمیل ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ اکثر اصول طراز اور سیاست دانوں نے کسی ایک پہلو کو دوسرے پہلو پر فوقیت دے کر اُسے ہی کل مان لینے پر اصرار کیا ہے؛ چوں کہ ایسے بے شمار سیاسی نظریے وجود میں آئے ہیں جن میں کبھی تو سیاسی عمل پر عقل انسانی کے اثرات کا پورے شدومد کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے اور کبھی اس کے بالکل برعکس، کہ سیاست و سیادت میں انسانی عقل کا کوئی حصہ نہیں؛ بلکہ یہ چیز بعض قوموں کا ذاتی ورثہ ہے جو ازل سے انھی کے لیے ہے اوراس باب میں انہی کی رہنمائی قابل قبول ہوتی ہے ، سیاست اور نظام کے باب میں یہی بنیادی نقطئہ نظر ہے جو کمیونزم،سوشلزم، ریشنیلزم، کمرشیلائزیشن، سیکولرائزیشن، ڈیماکریسی اور نظام اسلامی کے مابین حد فاصل ہے۔

جمہوریت کاآغاز و نظام

مشہور انقلاب فرانس کے بعد، جو یورپ میں حریت و جمہوریت کے مذبح کی سب سے بڑی اور آخری قربانی تھی، موجودہ جمہوریت کا وجود عمل میں آیا۔ ”تاریخ انقلاب تمدن“ کے مصنف اور مشہور موٴرخ ”حال“ کا یہی خیال ہے۔

ابتداءً اُس کے اساس اولین پانچ قرار پائے؛ لیکن ان کے تجزیے کے بعد ایک اصول باقی رہتا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ قوت حکم و ارادہ افراد و اشخاص کے ہاتھ میں نہ ہو اور دوسرے لفظوں میں اس اصول کو نفی حکم ذاتی و مطلق کا بھی نام دیا جاسکتا ہے۔
مبادیٴ حریت
اس سے قبل نظامِ حکومت کا کوئی قانون مرتب نہ ہوا تھا، انقلاب فرانس کے بعد فرانس کا دستور مملکت مرتب کرنے کے لئے ایک قانون ساز کونسل قائم کی گئی، جس میں قوانین وضع کرنے سے قبل بطور مبادیٴ دستور حریت کے چند دفعات مرتب کئے گئے، جنھیں جملہ قوانین کا اصل الاصول قرار دیا جاتا ہے۔ ان اصولوں کا خلاصہ یہ تھا: انسان آزاد پیدا ہوتا ہے اورآزادی ہی کے لئے زندہ رہتا ہے، تمام انسان بلحاظ حقوق مساوی ہیں اورحقوق طبعی پانچ ہیں: حریت، تملک، امن، مقاومت اور قانون ارادئہ عامہ کا مظہر ہے؛ اس لئے ملک کے ہر باشندے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وکلاء کے توسط سے مجلس اعلیٰ میں شرکت کرے، ہر وطنی بلحاظ وطنی ہونے کے یکساں حکم سے موٴثر ہو اس بنا پر ہر شخص کو حسب قدرت وصلاحیت بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ کسی انسان کے لئے کسی حالت میں دوسرے انسان کو قیدی بنانے کی اجازت نہیں؛ بلکہ اس طرح کے تمام رویے سے گریزاں رہے البتہ قانون کی مقرر کردہ صورتوں میں اس کی اجازت دی جاسکتی ہے اور کسی شخص کے لئے روا نہیں کہ وہ دوسرے کو رائے کے اظہار سے روکے، گو وہ رائے دینی اور عام اعتقادیات کے خلاف ہو۔ ملک کے ہر باشندے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے و فکر کے مطابق گفتگو کرے، لکھے، پڑھے اور چھاپے۔
حق تملک ایک مقدس حق ہے کوئی شخص اسے سلب نہیں کرسکتا تاہم مفادات عامہ سب پرمقدم ہیں؛ لیکن اس کے لئے بھی جب تک قانونی صورت نہ ہو کسی کو اپنی ملکیت سے دست بردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، تحریک انقلاب کے مقاصد میں یہ بھی تھا کہ حق حکم و تسلط اشخاص کو نہیں؛ بلکہ ہر فرد بشر کو حاصل ہے کہ وہ حریت سے لطف اندوز ہو اور مامون و محفوظ رہے۔ اسی وطنی حریت کو امت فرنساویہ کے مرض کا شفا قرار دیاگیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ موجودہ جمہوریت کا مبدأ سعادت قانون ساز کونسل کا یہی اعلان تھا جسے تاریخ میں اعلان حقوق انسانی کے محترم لقب سے نوازا گیا ہے۔
موجودہ جمہوریت کے محل کے اہم نکات
جمہوری طرز حکومت طریقہٴ انتخاب پر مبنی ہے اور موجودہ جمہوریت سے مراد ایسا نظام حکومت ہے جس میں آمریت مطلقہ اور اقتدار ذاتی کی جگہ قوت واقتدار کے تمام عہدے ملک کی عوامی جماعتوں کو حاصل ہوں، حکومت کے کسی ادارے میں وراثت و جانشینی اور ولی عہدی کے قدیم دقیانوسی طرز حکومت کا عمل دَخل نہ ہو؛ بلکہ ملک کی عوامی جماعتوں کو یہ حق حاصل ہو کہ ملک کی جو جماعت قومی و ملکی پروگرام کے موافق ہو اس کو اپنے ووٹوں کے ذریعے منتخب فرماکر حکومت کی گدی پر بٹھادیں اور اپنی مرضی کے مطابق وہ اسے استعمال کریں اور اپنی منشا کے موافق مجلس تشریعی و تنفیذی میں اپنے نمائندہ کو روانہ کرسکیں، نیز اس حکومت کے تمام باشندے جملہ حقوق کے حوالے سے خواہ وہ اقتصادیات سے متعلق ہوں یا معاشرت سے؛ مساوی تصور کیے جاتے ہیں، ملکی اور شہری تمام امور میں اپنی صلاحیت کے مطابق ہر باشندے کو ترقی کے حصول اور سیاسی اعتبار سے اعلیٰ عہدوں تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو یہ امور ”حریت اجتماع“ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
حریتِ فکر اور آزادیٴ صحافت بھی اس جمہوری طرز حکومت میں ہرعام شہری کو حاصل ہوتے ہیں، ملکی خزانہ کسی مخصوص شخص کی ملکیت نہیں ہوتا ہے؛ بلکہ پورے طور پر عوام ہی اس کی مالک ہوتی ہے، اس خزانے کے اموال امن و سلامتی کے قیام، قوم و ملت کے دفاع، ملک کے نظم و نسق اور عوام کی صلاح و فلاح کے لئے صرف ہونے چاہیے۔ یہ ہیں وہ بنیادی نکات جن پر جمہوریت کے محل کی تعمیر ہوئی ہے۔
موجودہ جمہوریت کے اہم فرائض
حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کو جس زندگی کی جستجو ہے اس سے وہ تا ہنوز محروم ہے، وہ آخری منزل مقصود جہاں اسے پہنچنا ہے ، کوسوں دور ہے اور حیات انسانی کا اصل مرض اس کے رگ و ریشے میں ابھی بھی سرایت کیے ہوئے ہے، خوش فہم لوگ لاکھ کہیں کہ ہم نے انسانیت کے دکھ کا علاج پالیا ہے؛ تاہم درحقیقت جس کو وہ علاج تصور کررہے ہیں، خود ایک مستقل مرض ہے اورجس کو وہ مسیحا گردان رہے ہیں وہ فرشتہٴ موت ہے ، موجودہ جمہوریت میں اس قدر نقائص ہیں کہ اگر انہیں یکجا کردیا جائے تو آمریت و ملوکیت کا نمایاں فرق باقی نہیں رہتا، زیادہ سے زیادہ عنوان اور لیبل کا فرق ہوسکتا ہے گویا جمہوریت و ملوکیت ایک حقیقت کے دو عنوان ہیں، ہم ذیل میں ان خرابیوں کی قدرے تفصیل بیان کریں گے۔
(۱) موجودہ نظام سیاست کی بنیاد ہی اس غیرفطری تصور پر قائم ہے کہ ایک انسان کو دوسرے پر یا سب سے بڑی جماعت کو چھوٹی جماعت پرحکمرانی کا حق حاصل ہو، یہی وہ بنیادی فرق ہے جوانسانی معاشرہ کے تمام مفاسد کی جڑ ہے۔ انسانی فطرت اس سے اُبا کرتی ہے کہ وہ اپنی جنس کے افراد کی غلامی اختیار کرے، خواہ یہ حکمرانی تسلط شخصی و استبداد ذاتی کی شکل میں ہو یا جمہوریت کے روپ میں۔
(۲) ایک صالح اور مہذب حکومت وہی ہوسکتی ہے، جس کی بنیاد اخلاقی اور مابعد الطبیعی تصورات پر قائم ہو؛ کیوں کہ یہی چیز حیات انسانی کے لئے اصل روح کی حیثیت رکھتی ہے اور اسی سے زندگی کے منتشر اجزاء میں ربط پیدا ہوسکتا ہے اور عالم گیر اضطراب و بے چینی کو دور کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ دیگر کسی نظام کے ذریعہ یہ خواب شرمندئہ تعبیر نہ ہوگا؛ چونکہ دنیا کے سیاسی نظاموں میں اخلاقی اقدار کو کوئی جگہ نہیں ملی ہے؛ اس لیے موجودہ جمہوریت میں منتخب ہونے والے نمائندوں کے لئے کوئی اخلاقی معیار مقرر نہیں اور آج نمائندگی کا اہل اس شخص کو تصور کیا جاتا ہے جو سب سے زیادہ زمانہ ساز ڈپلومیٹک، لسّان اور چرب زبان ہو، گو اس کے اخلاق و کیریکٹر کتنے ہی گرے ہوئے ہوں۔ ظاہر ہے کہ ایسے نمائندوں سے انسانیت کے اہم مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ کہ از مغز دو صد خر، فکر انسانی نمی آید ع
(۳) جمہوری آئین کو وطنیت و قومیت کے دائرے میں محدود کردیاگیا ہے، اسے ہمہ گیر و یونیورسل حیثیت حاصل نہیں ہے؛ اس لئے وہ صرف اپنے ملک کے اصل باشندوں کے حق میں تو مفید ہوسکتا ہے؛ تاہم آبادی کا وہ حصہ جو غیرملکی کہلاتا ہے اس کے فیوض و ثمرات سے بالکل یہ محروم ہیں۔
(۴) موجودہ جمہوریت کا دارومدار جماعتی طرز فکر، جماعتی کردار اور جماعتی نظریہٴ سیاست پر ہے، ملک میں اگر دو یا دو سے زائد سیاسی جماعتیں ہیں توہر جماعت کا نمائندہ اپنے مخصوص جماعتی طرز پر سوچتا ہے اور جماعت سے وفاداری یا عصبیت کی بنیاد پر ہر بات میں اسی کی حمایت کرتا ہے، خواہ وہ بات کتنی ہی غلط اور غیر منصفانہ کیوں نہ ہو؛ اس لیے کہ ہر جماعت کا اپنا ایک نصب العین ہوتا ہے۔ پارٹی کے ہر رکن کو جائز یا ناجائز ہر اعتبار سے ہر محاذ پر اور ہر راہ پر اسی کی منہ بھرائی کرنی پڑتی ہے۔
(۵) اس طرز حکومت میں اتھارٹی ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور مختلف جماعتوں میں جس کی اکثریت ہوتی ہے وہی با اقتدار ہوکر زمام کار سنبھالتی ہے۔ آئین کی رو سے اکثریت کا ہر فیصلہ جائز تصور کیا جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی بے رحمانہ اور ظالمانہ ہو اور وہ جائز یا ناجائز ہر طریقے سے اقلیتوں پر اپنا تسلط جمائے رکھتی ہے۔
(۶) موجودہ نظام جمہوریت میں نمائندگی کے لیے افراد اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، جس کا حریت عامہ پر نہایت خطرناک اور غلط اثر پڑتا ہے، ان میں سے ہر شخص ترغیب و ترہیب کے ذرائع اختیار کرتا ہے اور بسا اوقات عوام خوف یا طمع کی وجہ سے رائے دہی پرمجبور ہوتے ہیں، اس طرح عوام کی آزادیٴ فکر کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ صحیح نمائندہ منتخب نہیں کرپاتے ہیں۔
(۷) نمائندگی کی طرح، رائے دہندگی کے لئے بھی کوئی اخلاقی معیار مقرر نہیں؛ بلکہ اس کا معیار ٹیکس اور لگان کی حد تک محدود رہتا ہے اور ہر جماعت اپنی نمائندگی کے لیے ایسے شخص کو منتخب کرتی ہے جو اس کے مفاد اور زاویہٴ نظر کی رہبری کا فریضہ انجام دے خواہ وہ کتنا ہی غلط ہو اور زیادہ سے زیادہ اپنی جماعت کی ہمنوائی کرنے والاشخص ہی منتخب ہوتا ہے۔ کتنا بڑا ظلم ہے کہ تعلیمی، تجارتی اور معالجاتی امور میں صداقت و دیانت داری کا امتحان لیا جاتا ہے؛ مگر جہاں پوری قوم کے نفع و ضرر کا سوال ہے وہاں نمائندگی کے لئے نہ کوئی اخلاقی معیار مقرر ہے اور نہ رائے دہندگی کے لیے وقار پرکھنے کا کوئی ذریعہ۔
(۸) موجودہ طریق انتخاب سے منتخب ہونے والے شخص کو ایک مدت تک کے لیے بالکلیہ آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے اور رائے دہندگان کو اس کے عزل و برطرفی کا کوئی اختیار نہیں، گویا وہ طوعاً و کرہاً اتنی مدت تک اس کی قیادت تسلیم کرنے پر مجبور ہیں خواہ وہ اس کا اہل نہ رہ گیا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ظاہرہوتا ہے کہ عوام سے نمائندہ اسی وقت تک ربط و تعلق اور میل جول برقرار رکھتا ہے جب تک وہ ان سے ووٹ حاصل کرتا رہتا ہے، منتخب ہونے کے بعد وہ ہر طرح مطمئن ہوگیا اور رائے دہندگان کی خواہشات کا مطلقاً پاس لحاظ نہں ہوتا ہے۔
جمہوریت و ملوکیت ایک عنوان کی دو فرع
نظام جمہوریت کے پیچھے کوئی اخلاقی تعلیم یا کوئی ایسی شریعت نہیں ہے جو اس کو حدود اور مقرر کردہ ضابطے میں رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت اپنے حدود سے متجاوز ہوکر ملوکیت و آمریت کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔چنانچہ جناب اسرار عالم صاحب جمہوریت کے عملی نقشے کا تجزیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ:
”ڈیماکرائزیشن (جمہوریت) سیکولر کرنے کی وہ کوشش ہے، جو بظاہر لوگوں کو اظہار رائے کا حق دے کر جاتی ہے؛ لیکن جس کے پس پردہ دراصل امت کے ذہن اور صالح دماغوں کو بے دخل کرنا ہوتا ہے، چند سیکولر دماغ پوری آبادی کو اس کے ذریعے اغوا کرکے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ جہاں یہ طریقہ ان کے خلاف جاتا ہے تواسے آمرانہ طریقے سے کچل دیتے ہیں، اس وقت انہیں جمہوریت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ (عالم اسلام کی اخلاقی صورت حال، ص: ۲۴۱)
مذکورہ بالا تجزیہ درحقیقت جمہوریت کی عملی تشریح ہے، جو اس بات کا پتا دے رہی ہے کہ جمہوریت اور ملوکیت کے درمیان کوئی نمایاں فرق نہیں پایا جاتا، زیادہ سے زیادہ لیبل کا فرق ہوسکتا ہے؛ یعنی ایک عنوان کی دو فرعیں جمہوریت کی اس تشریح کے بعد یہ بات بالکلیہ واضح ہوجاتی ہے کہ نظام اسلامی کے ساتھ جمہوریت کی ہم آہنگی کسی شکل میں نہیں ہوسکتی۔
جمہوریت اور ریشنلزم اسلامی نظریے کے مخالف
نظام اسلامی اورجمہوریت کے درمیان قدرے اشتراک اس امر میں ضرور ہے کہ ان دونوں نظام ہائے سلطنت نے شخصی اور وراثتی سلطنت کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے میں اہم کردار ادا کیے ہیں؛ لیکن اس ادنیٰ سی مناسبت کی وجہ سے ان دونوں نظام ہائے سلطنت کے اصولی و فروعی آپسی تناقض سے چشم پوشی کرنا کسی اعتبار سے بھی معقول نہیں۔ چوں کہ نظریے کے کسی بھی باب میں اتفاق کا لفظ اسی وقت استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ کم از کم ان دونوں نظریات کے بنیادی اصول و اغراض میں اتفاق ممکن ہو، حالاں کہ جمہوریت اوراسلامی نظام کے بنیادی نظریے میں زمین و آسمان کا فرق ہے؛ کیوں کہ حکومت اسلامی مسلمانوں کے ایمان باللہ، ایمان بالآخرة اوراسلامی مقاصد کو بروئے کار لانے کی ضامن ہے، جبکہ جمہوریت کے پس پردہ کوئی ایسی طاقت نہیں پائی جاتی جو ایسے مقاصد کو درجہٴ فعلیت میں لانے کی ضمانت دے سکے اوراگر کوئی طاقت ہے تو وہ ریشنلزم یا تعلقیت کی ہے جس کی ایک فرع جمہوریت ہے۔ ریشنلزم کی حقیقت سے متعلق جناب اسرار عالم صاحب ”انسائیکلو پیڈیا آف فلاسفی“ کے حوالے سے رقم طراز ہیں:
”ریشنلزم ، خیالات کے مختلف زاویہ ہائے نظر اور تحریکات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا کی حقیقی صداقتوں کو گرفت میں لینے کے لیے ایک استخراجی عقل کی قوت ضروری یا کافی ہے۔
یہ دراصل ایک نقطئہ نظر ہے جو مذہب میں عقل کواتھارٹی مانتا ہے اور ان تمام عقائد و نظریات کو رد کرتا ہے جو عقل کے مطابق نہ پائے جائیں؛ لیکن اس لفظ کی موجودہ صورت دو معنوں کو محیط ہے: پہلا مفہوم اوپر ذکر ہوچکا ہے، جبکہ دوسرا اس کی وہ صورت گری ہے جوانیسویں صدی کے یورپ میں سامنے آئی جو سرتا سر مذہب کو ڈھانے والی تھی۔“ (عالم اسلام کی اخلاقی صورت حال، ص: ۵۴)
ظاہر ہے کہ اصل اور سرچشمے کی صورت یہ ہے تواس پر قائم ہونے والی جمہوریت ان بنیادی کمزوریوں سے کیوں کر پاک ہوسکتی ہے؟ یقینا جمہوریت بھی الٰہیاتی تصور کھوکر بین الاقوامی بدامنی میں تبدیل ہوجائے گی، پھر جمہوریت کا نظام اسلامی کے موافق ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
اسلام کا تصور حاکمیت
حاکمیت کے باب میں اسلام کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان پر کسی طرح حکمرانی کا کوئی حق حاصل نہیں، اقتدار و حکومت، جاہ و منصب اور قانون سازی کا اختیار صرف اور صرف احکم الحاکمین کو ہے اور خدائی کاموں میں دخل اندازی انسانی منصب کے قطعی منافی ہے۔ قرآن کریم میں ”اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ“ کا واضح حکم موجود ہے۔ البتہ حکومت کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے زمین میں ایک نائب جماعت سرگرم عمل ہے،اس کی حیثیت فقط ایک مزدور کی ہے جو آقا کے متعین کردہ حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف کار ہے، زندگی کے ہر شعبے میں اس کے طور طریقے معیاری حیثیت کے حامل ہیں جس سے اس کو تمکن فی الارض کا منصب حاصل ہوتا ہے، اس کو کسی طرح قانون میں ترمیم و تنسیخ اور ردوبدل کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا، وہ جماعت اس قانون کو اصلی شکل میں نافذ کرتی ہے اور خود بھی سختی سے اس پر کاربند رہتی ہے،اس کا ہر آئین، ہر قانون و ہر دستور غیر متبدل ہے؛ بلکہ دائمی و پائدار حیثیت کا حامل ہے، محض حسن ظن کی بنا پر نہیں؛ بلکہ واقعات و شواہد کی بنیاد پر اس پر عمل پیرا ہونا ناگزیر ہے، اسلامی نظریہٴ حیات ہی زندگی کے تمام مشکلات کو حل کرسکتا ہے اور مسلمان اسی فلسفہٴ زندگی کا علمبردار ہے اوراسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنے نوع انسانی کی قیادت کرسکے۔
قرآن کریم کی آیت ”وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطاً“ میں وسط کے لفظ سے اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ امت مسلمہ اقوام عالم کے لیے مرکز اور وسط حقیقی کی حیثیت رکھتی ہے اور ساری کائنات اس کے گرد چکر کاٹتی ہے۔ اسی طرح ”شہید“ کا لفظ بھی بتا رہا ہے کہ موٴمنین کی جماعت، عالم انسانی کے لیے گواہ اور نگراں ہے اور سوسائٹی میں نظم و ضبط کا قیام، شاہ و گدا اور گورے وکالے میں مجلس مشاورت کا قیام اور تمام اخلاقی و جنسی خرابیوں کی اصلاح اس کا فریضہ قرار دیاگیا ہے ، دوسری اقوام و ملل کی قیادت و سیادت کے خاتمے کے بعد امامت و رہبری کی ذمہ داری اسی امت کے کندھے پر ڈالی گئی ہے قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس مضمون کی نہایت تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے۔
امارت و خلافت کا معیار
قرآن کریم میں حق جل مجدہ کا یہ ارشاد موجود ہے : ”الَّذِیْنَ انْ مَکَّنّٰہُمْ فِي الأرض“o” انَّ أکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ أتْقٰکُمْ، الآیة، ان آیات کریمہ میں تمام شرائط امارت و خلافت کی طرف بالاجمال اشارہ کردیا ہے۔ اقامت صلاة، ایتاے زکاة اورامر بالمعروف و نہی عن المنکر میں تمام انفرادی و اجتماعی فرائض شامل ہیں۔ امربالمعروف کے لئے قرآن کریم کا مکمل فہم اور احکام و مسائل کا علم بہ ہر صورت لازم ہے، اسی طرح یہ فریضہ اس وقت تک پایہٴ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ قوت مقتدرہ اوراعدائے دین سے مقابلے کے لئے پوری صلاحیت ولیاقت موجود نہ ہو۔ امربالمعروف قرآن کریم کی ایسی جامع اور مکمل اصطلاح ہے جس کا اطلاق زندگی کے ہر گوشے پر ہوتا ہے؛ مگر اخلاقی قیود و اقدار پر ان کا اطلاق زیادہ بیّن و واضح ہے؛ اس لئے آمر کا بذات خود اعلیٰ اخلاق اور شاندار کردار کا حامل ہونا لازم ہے۔ ظاہر ہے کہ موجودہ نظام ہائے سیاست میں اخلاق و کردار کی بلندی، سیرت کی پاکیزگی اور شیریں اخلاقی کو بعید گوشے میں جگہ حاصل نہیں ہے اور نہ ان کو ایمان باللہ اور مرنے کے بعد کی زندگی کے محاسبہٴ اعمال کے تصور سے کوئی نسبت۔
حاکمیت و خلافت کا فرق
یہ دو مختلف چیزیں ہیں، حاکمیت کے باب میں ضروری ہے کہ اپنے احکام دوسروں پر لاگو کیے جائیں؛مگر خلافت سے مراد نیابت و جانشینی ہے، جن احکام کو خلیفہ دوسروں پر نافذ کرتا ہے وہ خود بھی ان کا مکلف ہوتا ہے اوراس کے لئے اپنے اوپر ان کا نفاذ ضروری ہوتاہے، اس لحاظ سے خلیفہ خداکی نیابت کے فرائض انجام دیتا ہے اس کی حیثیت صرف ایک امین کی ہوتی ہے، اس کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ عدل وانصاف اور مساوات عامہ کی شکلوں کو عالم کے روبرو پیش کرے اور یہ واضح کرے کہ نفس انسانیت کے لحاظ سے تمام افراد بشر مساوی ہیں، چنانچہ حدیث میں آیا ہے کلکم بنوآدم، وآدم من تراب اسی طرح حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس حقیقت کو نہایت واضح لفظوں میں واشگاف کیاہے۔ ألا وانّي لم أبعثکم أمراء ولا جَبَّارین؛ ولکن بعثتکم أئمة الہدی یہتدی بکم، ولا تغلقوا الأبوابَ دونہم فیأکل قویُّہُمْ ضعیفہم
نظام اسلامی کا تصوراحتساب
نمائندہ کے منتخب کیے جانے کے سلسلے میں نظام اسلامی کا مزاج، جمہوری طرز سے کہیں اعلیٰ ہے، جس کی قدرے تفصیل مولانا سید اکبر شاہ نجیب آبادی یوں بیان کرتے ہیں:
”تمام سمجھدار اپنے اندر سے کسی ایک شخص کو منتخب کرکے اپنا امیر اور قانون نافذ کرنے کا اہتمام کرلیں، اس امیر کے منتخب ہونے کے بعد انہیں شاہانہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں؛ لیکن ایسے اختیارات حاصل نہیں ہوسکتے کہ وہ مسئول نہ ہوسکے؛ بلکہ وہ قانون یعنی شریعت کے قائم کردہ اصولوں اور حکموں کے ماتحت ملک و قوم میں امن و انتظام قائم رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور ہر ایک شخص اس کو کوئی خلاف قانون کام کرتے ہوئے دیکھ کر روک ٹوک سکتا ہے اور ہر معاملے میں اس سے جواب طلب کرنے کا آزادانہ حق رکھتا ہے۔ (آئینہٴ حقیقت نما، ص: ۴۵-۴۶)
امیر کے منتخب کیے جانے کے اثر و رسوخ اورجواب دہی کے سلسلے میں جو اسلامی نظریہٴ سیاست پیش کیاگیا ہے وہ یقینا جمہوریت کی حد کمال سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے۔ علاوہ ازیں نظام اسلامی کے نزدیک پیش کیے گئے نظریے سے بھی اہم چیز الٰہیاتی تصور ہے، اگر نظام اسلامی سے الٰہیاتی تصور مفقود ہے تو گویا اس کی روح مفقود ہے۔ چوں کہ نظام اسلامی کے نزدیک اقتدار و حکومت ایمان باللہ اور تصور احتساب پرمبنی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے اصول و نظریات اور اعمال میں لامحالہ یگانگت پائی جاتی ہے؛ یعنی ایک مسلم حکومت کو صرف اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ عوام کے روبرو جواب دہ ہے؛ بلکہ اس سے زیادہ اس کو ایک غیر محسوس اور قادر مطلق ہستی کا خوف دامن گیر ہوتا ہے؛ اس لیے حکومت اسلامیہ کو ہر حال میں اسلام کے قوانین عدل اور اصول مساوات کی پابندی کرنی ہوتی ہے؛ چوں کہ ایک صالح اورمہذب نظام حکومت وہی ہوسکتا ہے، جس کی بنیاد اخلاقی اور مابعد الطبعی تصورات پر قائم ہو، جبکہ نظام جمہوری میں ایسا کوئی بھی تصور قائم نہیں ہے جو اس کے ماننے والے سیاست دانوں کو تصوراحتساب سے آشنا کرے؛ یہی وجہ ہے کہ جمہوری حکومتوں کے سیاست داں بلا کسی خوف و خطر کے بدعنوانیوں کو جنم دیتے ہیں جو اسلامی نظام میں انتہائی قبیح عمل ہے۔
نظام اسلامی کے بنیادی اصول
نظام اسلامی کے بنیادی اصول کو جو دراصل قرآن و حدیث اور خلافت راشدہ کے طریقے سے ماخوذ ہیں حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمة اللہ علیہ نے تتبع و جستجو کے بعد مندرجہ ذیل لفظوں کے ساتھ بیان کیا ہے:
(۱) خلیفہ کے انتخاب میں پوری بصیرت سے کام لیا جائے؛ یعنی جتنی کوشش ممکن ہو کی جائے، پھر انتخاب کے بعد اس کے احکام جو کتاب و سنت اورمصالح مسلمین کے خلاف نہ ہو مان لیے جائیں۔
(۲) امور مہمہ میں جو منصوص نہ ہوں اہل حل و عقد سے مشورہ کیا جائے۔
(۳) بیت المال خلیفہ کی ذاتی ملک نہیں وہ صرف مصالح مسلمین کے لئے ہے۔
(۴) سلطنت کے نظم و نسق میں حددرجہ سادگی اور کفایت شعاری اختیار کی جائے۔
(۵) عہدہ دار اور اہل منصب میں ادائے فرض کے اندر پوری دیانت برتی جائے۔
(۶) عہدہ داران سلطنت کیلئے مقررہ وظیفہ کے علاوہ رعایا سے کسی قسم کا تحفہ، قطعاً ناجائزہے۔
(۷) رعایا سے شرعی ٹیکس کے علاوہ دوسرے قسم کے غیر شرعی ٹیکس نہیں لیے جاسکتے۔
(۸) حکام پر پورا پورا عدل فرض ہے، عدل و انصاف کی راہ میں رشوت، طرف داری اور بے انصافی ظلم اور گناہ کبیرہ ہے۔
(۹) کاشت کار اور زمین دار کے درمیان اتنا ہی تعلق ہے جتنا ایک مزدور یا اجارہ دار اورمالک کے درمیان۔
(۱۰) اسلامی سلطنت کے اندر ہرمسلمان جو معذور نہ ہو اس کا سپاہی ہے۔
(اسلامی نظریہٴ سیاست، ص:۴)
اسلامی حکومت کے اغراض ومقاصد
اسلامی مفکرین اور قد آور دانشوروں نے اسلامی حکومت کے اغراض و مقاصد درج ذیل بیان کیے ہیں:
(۱) قیام عدل (۲) رفع فساد اور قیام امن (۳) افراد مملکت کو حریت فکر (۴) مجلس قانونی کو معاشی اور سیاسی مساوات عطا کرنا؛ یعنی اسلامی حکومت کااصل مطمح نظر یہ ہے کہ انسانوں کو غیرفطری رجحانات سے ہٹاکر فطرة اللہ یا نقطئہ عدل پر قائم کیا جائے۔
حریت عامہ اور اسلام
اسلام کا نظریہ سیاست ہر اعتبار سے ہمہ گیر اور لامحدود حیثیت رکھتا ہے،اس کی افادیت نسلی و وطنی حدود سے آزاد اور پورے عالم انسانیت کو محیط ہے، اس کی نگاہ کسی ایک شعبہٴ حیات پر نہیں؛ بلکہ جملہ شعبہ ہائے زندگی کو محیط ہے اور وہ انسانوں کی بلندی خواہ فکری ہویا دینی، علمی ہو یا مادی، اخروی ہو یا دنیوی، ان تمام ضروریات میں کسی ضرورت سے بھی غافل نہیں یہی وجہ ہے کہ اسلام کا موضوع نفس انسانیت ہے جو دنیا کے تمام انسانوں کو زندہ رہنے کا حق دیتا ہے اور حریت اجتماع یا حریت فکر میں کسی بھی اعتبار سے ترجیحی سلوک نہیں برتتا۔ اسلامی نظریہٴ حاکمیت کسی کے لیے روادار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت میں دخل اندازی کرے؛ لہٰذا قدرتی طور پر اس کا نتیجہ آزادیٴ فکر اور مساوات عامہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔
آزادیٴ فکر اور مساوات عامہ
یہی وجہ ہے کہ خلیفہٴ اسلام کو دوسرے لوگوں پر کوئی ترجیحی حیثیت حاصل نہیں اور نہ یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ و برتر تصور کرے؛ بلکہ آزادیٴ فکراور شہری حقوق کے لحاظ سے وہ ایک عام شہری کا درجہ رکھتا ہے۔ اس آزادی کو ہر شعبہ میں ملحوظ خاطر رکھاگیا ہے؛ چنانچہ معاشی و اقتصادی طور پر خلیفہٴ اسلام کو مساوی حیثیت حاصل ہے، تقسیم اموال میں انہیں یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے یا کسی رشتہ دار کے لیے دوسروں سے زائد حصہ لے لے، نیز یہ بھی روا نہیں کہ قومی اجازت یا عام مشورہ کے بغیر مالی فنڈ سے خرچ کرسکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اپنے مرض سے شفایابی کی خاطر تھوڑی شہد کے لیے عام مشورہ، قادسیہ کی لڑائی کے بعد تنخواہوں کے تعین کے وقت اول درجہ میں ہونے سے صاف نکیر کرنا اور اپنے فرزند ارجمند حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تنخواہ کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی تنخواہ سے کم مقرر کرنا؛ یہ سب ایسے لازوال و لافانی نقوش ہیں کہ جن کی مثال نہیں۔
عزل امیر کا غیر مشروط اختیار
بہت سے جمہوری ممالک میں متعینہ مدت تک حکمراں تخت و تاج شاہی کے مالک بنے بیٹھے رہتے ہیں، اس سے قبل عوام کو عزل امیر کا اختیار نہیں گو انتہائی سفاکیت و درندگی کا مظاہرہ کرے اور حقوق کی پامالی روز مرہ کا معمول بنارہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ تعین سے قبل حکومت کا اصل منبع عوام کو سمجھا جاتا رہا اور تعین کے بعد انہیں ازکار رفتہ اور عضو معطل گردان کر پس پشت ڈال دیاگیا، کیا یہ جمہوریت کے منافی نہیں؟ اسی لیے اسلام نے روزاول سے امارت و خلافت کا معیار اتباع شریعت کو قرار دیا، خلیفہ کے لیے واجب ہے کہ قدم بقدم متبع شریعت ہو؛ اگر وہ ایک قدم بھی آگے تجاوز کرتا ہے یا پیچھے مڑتا ہے تو عوام کو اس کو معزول کرنے کا کلی اختیار حاصل ہے۔
رائے دہندگان کا معیار
موجودہ طرز حکومت میں اخلاقی معیار مقرر نہ ہونے کی وجہ سے جمہوری ملکوں میں ہر آزاد شخص کو اور نیم جمہوری ممالک میں امارت کا معیار تعلیم اورجاہ و دولت کو قرار دیا جاتا ہے، ظاہر ہے ایسی صورت میں کسی صالح، مہذب و سلیقہ مند خلیفہ کا انتخاب مشکل ہی نہیں محال ہے، زیادہ سے زیادہ پارٹی سے متعلق جماعت ایسے شخص پر آمادئہ انتخاب ہوگی جو ان کی ذاتی و جماعتی خواہشات کی تکمیل کرسکتا ہو، جہاں رسہ کشی کا ہونا قطعاً ناگزیر ہے، اس کے برعکس اسلام کا طرز انتخاب بالکل جداگانہ ہے، اس سلسلے میں ہر بالغ کے فیصلے و رائے کی عدم درستگی پر مبنی ہونے کی وجہ سے چند سرکردہ شخصیات، ارباب دانش، اصحاب فکر اور ذی رائے ہی سے مشورہ لیا جائے اور انہی کو اختیار دیاگیا کہ کسی نیک سیرت، تقوی شعار اورحامل علوم کتاب و سنت کو اقتدار کی گدی پر بٹھائیں؛ تاکہ کسی کے لئے انگشت نمائی کا موقع باقی نہ رہے؛ کیوں کہ اسلام میں اعتماد عام اور وجہ ترجیح علم و عمل ہے اوراسی شخص کی رائے باوزن ہوسکتی ہے جو ان اوصاف سے متصف ہو، اسلام میں ایسے افراد کو ”ارباب حل و عقد“ سے موسوم کیا جاتا ہے؛ چنانچہ خلفائے اربعہ کا انتخاب اسی طرز پر ہوا، انصار و مہاجرین کو ارباب حل و عقد تسلیم کیا جاتا رہا اور ان کے فیصلے کو پوری امت کے لیے حکم ناطق کی حیثیت حاصل رہی۔
خواہش امارت اوراسلام

موجودہ جمہوریت میں سب سے عظیم نقص یہ ہے کہ اقتدار کے لیے چند افراد اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، اس خواہش کی تکمیل کی راہ میں جنگ و جدال، قتل و قتال اور دوسری پارٹی کا نہایت بے دردی کے ساتھ سیم و زر کی ٹھیلیاں لٹانا یہ سبھی کچھ ڈرامے رونما ہوتے ہیں؛ اس لیے اسلام نے امارت کی خواہش پر پابندی عائد کردی؛ اگر اسلام کے اس نہج کو اپنایا جائے تواس سے لازماً دو فائدے ہوسکتے ہیں: اوّل یہ کہ انتخابی کش مکش اور باہمی تصادم سے نجات ملے گی۔ دوم یہ کہ جب کوئی امارت کا مدعی نہ ہوگا توامت پر خوف یا لالچ کی فکر غالب نہ آئے گی اور صحیح خلیفہ متعین کرنے میں کوئی دقت نہ ہوگی۔
حرف آخر
درحقیقت جمہوریت سے مراد نظم معاشرت اور عوامی حکومت کی آڑ میں انسان کے فکر و نظر، تہذیب و تمدن کو عقیدے اور دین سے منقطع کرکے اسے ریگولر کی بجائے ملحد بنادینا ہے؛ تاکہ ایک ایسی عام تنظیم قائم ہوجائے جس کے پردے میں شاطرانِ زمانہ ساری دنیا پر اپنی آمریت قائم کرسکیں، جس نظام کا نصب العین اور نظریہ ایسا ہوگا، یقینا نظام الٰہی کا اس سے تصادم اور ٹکراؤ معرکہ کی شکل میں ہوگا۔


ہفتہ، 6 اپریل، 2019

ابلیس کی مجلسِ شوریٰ

ابلیس کی مجلسِ شوریٰ

جمہوریت نظام نہیں بلکہ کسی نظام کو توڑنے، ختم کرنے، بدلنے اورکنٹرول کرنے کے لئے ایک ایسا طریقہ ہے جس    کے ذریعے پہلے سے موجود کسی نظام کے ماننے والوں کو جھوٹ، دھوکے، مکر و فریب، خوشنما واعدے، خیالی پلاؤ وغیرہ وغیرہ ۔۔  سے  بہکاوے میں لے کر کنٹرول کیا جا سکے۔
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق
علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں سکتا
غریب اگرچہ ہیں رازیؔ کے نکتہ ہاے دقیق
مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق
اسی طلسم کہن میں اسیر ہے آدم
بغل میں اس کی ہیں اب تک بتان عہد عتیق
مرے لیے تو ہے اقرار بااللساں بھی بہت
ہزار شکر کہ ملا ہیں صاحب تصدیق
اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

حضرتِ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے موجودہ جمہوری پارلیمانی نظام کا ایک حقیقی منظر نامہ پیش کیا ہے کہ کس طرح سے اس سارے نظام کی شیطان نے بساط بچھا رکھی ہے اور کس طرح سے اسے چلا رہا ہے ۔یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح سے آج دنیا میں مختلف ممالک حکومتیں بنانے اور چلانے کے لئے انتخابات یا کسی اور ذریعے کو کام میں لاتے ہوئے قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ بناتے ہیں اور پھر اس میں مختلف معاملات پر بحث کرنے کے بعد ان معاملات سے متعلق فیصلے کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح علامہ محمد اقبال ؒ بھی ایک فرضی (خیالی) اسمبلی( مجلس شورٰی )یا پارلیمنٹ کہہ لیں تشکیل دیتے ہیں جس میں حکمران پارٹی شیطان کا ٹولہ ہے اور اس کا سربراہ خود ابلیس (شیطان)ہے۔اس (مجلس شورٰی) پارلیمنٹ میں زیر بحث آنے والے معاملات اور مسائل کا تعلق درحقیقت ہمارے آج اور آنے والے کل کے مسائل سے ہے۔اس اجلاس کی صدارت چونکہ خود ابلیس کر رہا ہے لہذا سب سے پہلے ابتدائی خطاب بھی خود ابلیس ہی کرتا ہے اور پھر باری باری اس کے مشیر وزیر جو تقریباً پانچ ہیں اپنی اپنی رائے دیتے ہیں۔آخر میں اجلاس کی کاروائی کو سمیٹتے ہوئے ایک بار پھر صدر مجلس یعنی خود ابلیس اپنے مشیروں سے خطاب کرتا ہے اور اجلاس کی ساری کاروائی کی روشنی میں اپنے انتہائی اہم مشورے دینے کے ساتھ اپنے خدشات کا بھی اظہار کرتا ہے۔

اس کتاب میں ہم نے کوشش یہ کی ہے کہ ترجمہ و تشریح آج کی نوجوان نسل کو سمجھنے میں آسانی رہے۔کیونکہ ہمارا کل یہی نوجوان ہیں ۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو اپنے اسلاف سے روحانی فیض لینے کی سعادت و شرف عطافرمائے۔آمین

ایک ضروری وضاحت

یہ نظم (ابلیس کی مجلس شورٰی ) ۱۹۳۲ء میں حضرت اقبالؒ نے تحریر فرمائی تھی۔اور آج ہم ۲۰۱۸ ؁ء میں بیٹھے سانس لے رہے ہیں تقریباً چھیاسی سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس نظم کو پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے یہ آج لکھی گئی ہو۔ یہ اس لئے کہ اس نظم میں بیان ہونے والے مسائل کا تعلق عین ہمارے آج کے دور سے ہے۔ابلیسی اور دجالی نظام آج پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔کوئی ملک شہر اور گلی محلہ آج اس فتنے سے محفوظ نہیں رہا ہے۔عرب جہا ں سے اسلام کا چشمہ پھوٹا تھا آج وہیں پر اسلام کو دفن کرنے کا آغاز ہو چکا ہے۔آلِ سعود کے حکرانوں نے اسرائیل اور امریکا کو کھولی چھوٹی دے دی ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ میں جو جی میں آئے کریں۔نیا ولی احد سلمان اسی سلسلے کی کڑی ہے جس نے آتے ہی اسلام کے بنیادی ارکان پر وار کرتے ہوئے بے پردگی کو قانونی شکل دے دی ہے یہی نہیں بلکہ عرب کی سرزمین پر پہلی دفعہ ناچ گانے کے لئے باقائدہ کلب اور سینما گھروں کی اجازت کے ساتھ ساتھ تیزی سے تعمیر کے کام کا حکم بھی دے دیا ہے۔آل سعود ویسے تو پہلے دن سے ہی اہل یہود و نصارٰی کی مٹھی میں تھی لیکن اب اسرائیل امریکا کے ذریعے سے سعودی عرب میں داخل ہو چکا ہے اور آل سعود کے شہزادوں کے ساتھ کھلم کھلا کاروباری معاہدے کر رہا ہے۔پورے مشرقِ وسطہ میں فرقہ ورانہ بنیادوں پر اسرائیل اور امریکا نے انہی سعودی حکمرانوں کی مدد سے ایک نہ ختم ہونے والا فساد شروع کر رکھا ہے۔جس کا واحد مقصد آنے والے دنوں میں اسرائیلی ریاست کو وسعت دینا اور مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ و مدینہ کو ایران کے قبضہ میں دینا ہے۔خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے میں مدد دینے والا یہ نجدی حکمران ٹولا جسے آل سعود کے نام سے شاہی خاندان بنایا گیا تھا اسی نے عرب کی سر زمین پر کفار کی فوجوں کو داخل کیا ۔آج بھی یہی ہیں جنہوں نے اسرائیل کو سعودی عرب میں خوش آمدید کہا ہے۔فلسطین ،شام اور یمن کے مسلمانوں پر اسرائیلی جہازوں سے ہونے والی بم باری کے لئے سعودی ہوائی اڈے انہی فاسق و فاجر آلِ سعود کے حکمرانوں نے اسرائیل اور امریکا کو دے رکھے ہیں یہی نہیں ان جہازوں کے لئے مفت تیل کی سپلائی بھی مہیاکر رکھی ہے۔پاکستان ،افغانستان ،ترکی اور فلسطین کے حالات آج پوری دنیا کے سامنے ہیں جنہیں سمجھنا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ترکی میں جناب طیب اردگان کی حکومت عالم اسلام کے لئے ایک نوید مسرت سے کم نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے حضور تمام مسلمان دُعا گو ہیں کہ ایسا حکمران پاکستان ،افغانستان اور دیگر ممالک کو بھی مل جائے۔آمین ثما آمین۔

اللہ تعالیٰ حضرت اقبال رحمۃ اللہ کی مرقد پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔آمین
۲۹؍۷؍۲۰۱۸
وہ یہودی فتنہ گر، وہ روحِ مزدک کا بُروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تارتار


یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ہونے والی تمام جنگوں کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ رہا ہے ۔پہلی اور دوسری جنگ عظیم انہی شاطر دماغ یہود کی کارستانی تھی ۔آج پھر یہی اہل یہود ہیں جنہوں نے ایک بار پھردنیا میں دہشت گردی  کا فساد مچا رکھا ہے ۔۱۱۔۹ جیسا دہشت گردی کا واقع کرنے والے کوئی اور نہیں یہی اسرائیلی یہودی تھے۔فلسطین ،اُردن، لبنان، یمن، شام اور برما سے لے کر کشمیر تک ہونے والے ہرچھوٹے بڑے واقع کے پیچھے انہی یہود کا ہاتھ ہوتا ہے۔دنیا کے امن کو تباہ کرنے والے درحقیقت یہی اہل یہود ہیں۔ یہی وہ قوم ہے جس نے انبیاء علیہ السلام کو قتل کیا یہی حضرت عی علیہ السلام کو سولی چڑھانے میں پیش پیش تھے اور اپنے ہوتے سوتے انہوں نے اس بُرے کام کو تکمیل کے آخری مرحلے تک پہنچایا یہی اس بد بخت قوم کا کردار اور ماضی رہا ہے۔آج فلسطین ،شام اور یمن میں ہونے والی جنگوں کے پیچھے اصل حقیقت اسرائیل کی شیطانی ریاست ہے جو ہر آنے والے دن میں اپنی سرحدوں کو وسعت دینے کے لئے عرب ممالک میں داعش کے ذریعے دہشت گردی کر رہی ہے۔

ابلیس
 خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہتا ہے۔۔

یہ عناصر کا پرانا کھیل ، یہ دنیا ئے دوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تماناؤں کا خوں

شرح و تشریح

یہ دنیا ایک پرانا کھیل ہے جو آگ ،پانی،مٹی اور ہوا وغیرہ سے تشکیل دیا گیا ہے ۔اسے کھیل اس لئے کہا ہے کہ جس طرح کھیل کی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہوتی اسی طرح اس کائینات کی بھی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے۔یہ کھیل اس لئے بھی ہے کہ جس طرح کھیل (ڈرامہ) کے اسٹیج پرمختلف کردار اورمنظر پر آتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں اسی طرح دنیا کے اسٹیج پر بھی لوگ آتے ہیں (پیدا ہو ہو کر دنیا کے اسٹیج پر آ رہے ہیں) اور اپنا اپنا کردار ادا کر کے جا (مرتے جا رہے ہیں ) رہے ہیں۔ یہ عمل نا جانے کب سے ہو رہا ہے۔ شیطان یہ بھی کہتا ہے کہ یہ دنیا اپنی فطرت اور ذہنیت کے لحاظ سے انتہائی کمینی اور رذیل ہے کیونکہ یہ کسی سے وفا نہیں کرتی۔ بلکہ اُلٹا یہ رذیل لوگوں کی پرورش کرتی ہے اور شریف النفس انسانوں کو رگیدتی ہے۔ شیطان یہ بھی کہتا ہے کہ یہ دنیا آسمانوں سے آگے خدا تعالیٰ کے انوار کے جہان میں رہنے والے ملائکہ اور فرشتوں کی آرزوؤں کی بربادی کا سبب بھی بنی ہے۔ کیونکہ حضرت آدم کی پیدائش سے پہلے خدا کے عرش کے آس پاس فرشتے اور ملائکہ ہوتے تھے جو خدا کی بزرگی اور پاکی بیان کرتے رہتے تھے اور اس وقت اللہ کے نذدیک یہی معزز مخلوق تھی۔ پھر جب آدم کی تخلیق ہوئی تو فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس کے آگے سجدہ کریں اور اس طرح آدم کو سجدہ کرانے سے اللہ نے آدم کو فرشتوں سے افضل بنا دیا۔ (یہی تمناؤں کا خوں ہے) اس تبدیلی کو شیطان فرشتوں کی آرزوؤں کا برباد ہونا کہتا ہے۔ لیکن خود شیطان نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا اور انکار کی وجہ یہ تھی کہ وہ خود کو آدم سے برتر اور افضل سمجھتا تھا۔ اس نے اپنی امیدوں کا خون نہیں ہونے دیا اگرچہ اس جرم کی پاداش میں بطور سزا اسے دربار خداوندی سے نکال دیا گیا۔ لیکن اس نے فرشتوں کی طرح خود کو آدم کے آگے نہیں جھکایا۔
الفاظ و معنی
قدرتی عناصر چار ہیں اور عنصرکی جمع عناصر یعنی آگ ، پانی ، مٹی اور ہوا ہر چیز انہی مادی اجزا سے بنی ہے اور اس پرانی دنیا کا سارا کھیل انہی چار عناصریعنی آگ ،پانی،مٹی اور ہواکی ترکیب خاص سے معرض وجود میں آیاہے ۔اور اسے وجود میں آئے اتنا طویل عرصہ اور زمانہ ہو گیا ہے کہ جس کااندازہ نہیں کیا جا سکتا اس لئے پرانی ،بوڑھی اور دنیائے دوں مطلب رذیل و کمینہ صفت بھی ہے۔ساکنان ساکن کی جمع ہے۔ یعنی رہنے والے خُدا اور فرشے۔ جو بلندوبالا عظمت والے خدا کا تخت جو کہیں آسمانوں سے بھی بہت دور آگے ہے یہ تخت کوئی مادی نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے انوار کا ایک جہان ہے جسے خدا کی عظمت اور حقیقی بادشاہت کی بنا پر تخت کا نام دیا گیا ہے۔
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز 
جس نے اس کانام رکھا تھا جہان کاف و نون
شرح و تشریح

ابلیس کہتا ہے کہ مجھے ایسا لگتا ہے وہ بگڑے ہوئے کام بنانے والا خدا جس کے ایک لفظ کن (ہو جا )کہنے سے کائینات عدم سے وجود میں آ گئی تھی وہی آج اس کی بربادی پہ تلا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ دنیا کے وجود میں آنے کے کئی نظریے پیش کئے جاتے ہیں۔ لیکن قرآن نے یہی بتایا ہے کہ پہلے عدم تھا یعنی خدا کے سواء کچھ بھی نہ تھا پھر ارادہ کیا اور کن کہا تو سب کچھ ہو گیا۔

نوٹ:ڈارون اور اس جیسے دیگر فلسفہ دان جنہوں نے اس کائینات کی پیدائش سے متعلق مختلف بے تکے قسم کے نظریے پیش کیے درحقیقت یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت   تھا۔حوالے کے لئے پڑھیں (یہودی پروٹوکولز) آج کے ترقی یافتہ دور جس میں ڈی۔این۔اے تک کی دریافت ہو چکی ہے جس کے ذریعے پوری انسانی تاریخ معلوم کی جا سکتی ہے ۔
الفاظ و معنی
کارساز: یعنی ہر طرح کے کام بنانے والا ۔کاف و نون: مطلب ک ۔ن ۔سے مل کر لفظ کن بنتا ہے اور جب کن کہا تو فیکون ہوگیا۔یعنی اللہ تعالیٰ (ہو جا) کہا اور فیکون (ہو گیا)مطلب کائینات اور اس کی جملہ اشیا ء اللہ تعالیٰ کے کن کہنے سے عدم سے وجود میں آگئیں۔

میں نے دیکھایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجدو دیر و کلیسا کا فسوں

شرح و تشریح

شیطان کہتا ہے کہ میں نے ہی اہل یورپ کو بادشاہت کا حسین خواب دیا اور اس طرح شخصی حکومت قائم کر کے میں نے عوام کو بے بس و بے کس بنا کے رکھ دینے والی فکر عطا کی۔یہی نہیں بلکہ میں نے مختلف مذاہب کو ماننے والوں کے دلوں میں ان کی عبادت گاہوں سے نفرت دلا دی اور صدیوں سے ان پر مسجد، دیر اور کلیسا کا جو اثر تھا اسے ختم کر دیا۔ شیطان کہتا ہے میں نے اس طرح سے ان کے مذہبی عقائد کومسخ کر کے رکھ دیا کہ جس کے نتیجے میں مذہب ان کے دلوں سے بالکل رخصت ہو گیا۔یعنی مذہب کا جو جادو پہلے ان کے سر چڑھا ہوا تھا وہ جاتا رہا۔
الفاظ ومعنی
فرنگی: انگریز،یورپ کا باشندہ۔ملوکیت: بادشاہت۔خواب دیکھایا:ایک حسین خیال دیا۔دیر: مندر،ہندوؤں اور دیگر غیر مسلموں کی عبادت گاہ۔کلیسا:گرجا،عیسائیوں کی عبادت گاہ۔مسجد:مسلمانوں کی عبادت گاہ۔فسوں توڑا: جادو توڑا۔
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
شرح و تشریح

دنیا میں دو طبقات ہیں۔ان میں ایک طبقہ امیر ہے جبکہ دوسرا غریب ہے۔شیطان کہتا ہے کہ میں نے دولت مندوں کے ذہن و دل میں دولت کی ایسی محبت پیدا کر رکھی ہے کہ وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے ، جائز نا جائز اور حلال حرام طریقے اور ذریعے سے اسے اکٹھی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔انہیں اس کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ جبکہ ان کے مقابل غریب اور مفلس محنت مزدوری کر کے اپنی روزی کماتے ہیں اوران غریبوں کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھا رکھی ہے کہ وہ تو پیدا ہی ان امیروں ،وڈیروں،جاگیرداروں،نوابوں اور بادشاہوں وغیرہ کی خدمت کرنے اور ان کے ہاتھوں اپنی آزادی اور عزت لٹانے کے لئے ہوئے ہیں لہذا یہ اسے تقدیر کا نام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا ان کی قسمت میں لکھا ہوا ہے جس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں
شرح و تشریح

شیطان اعلانیہ کہتا ہے میں نے جس شخص میں ابلیسی اور شیطانی نظامِ حیات کی اقدارِ زندگی کو جلہ دینے والی آگ جلا رکھی ہے اسے کوئی ٹھنڈا نہیں کر سکتا۔چونکہ اس کے معاملات ،کاروبار حیات اور فکر و عمل میں یہ آگ میری اندرونی حرارت کی وجہ سے جل رہی ہے لہذا کسی میں ہمت نہیں کہ اس کو بجھا سکے۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ آج کے دور کے انسان کا ہر قدم میری اسی حرارت کی وجہ سے اُٹھ رہا ہے اور اس کا ہر فعل اسی تپش وشورش کی بنا پر سرزد ہو رہا ہے۔اوریہ بات میرے دعویٰ کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔
الفاظ و معنی
آتشِ سوزاں:جلا دینے والی آگ۔ابلیس:شیطان۔ہنگامہ:شورش،زندگی کا کاروبار اور معاملات،فکر و عمل،جدوجہد۔سوزدروں:اندر کی حرارت،اندر کی جلن۔

جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سر نگوں

وضاحت:اس سے پہلے شعر میں شیطان نے کاروبار دنیا اور معاملات حیات میں اپنے عمل دخل کو آگ اور حرارت کی علامتوں سے واضع کیا تھا۔ اس شعر میں اس عمل دخل کی وضاحت ایک درخت کی مثال دے کر کرتا ہے۔

شرح و تشریح

شیطان اپنے دعویٰ کے حق میں مزید دلائل دیتے ہوئے کہتا ہے کہ شیطانی درخت تو آغازِ کائینات ہی سے لگا ہوا ہے اور یہ بہت پرانا ہے۔ اس درخت کی نسبت حضرت آدم علیہالسلام کو اللہ کے حکم سے انکار کرنے والے اور آدم کو سجدہ نہ کرنے والے دن سے ہے۔ شیطان مزید کہتا ہے کہ میں نے تو اسی روز سے خدا کی مخلوق کو بہکانے اور گمراہ کرنے کا کام اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ اس درخت کو جو جڑوں سے لے کر پھل تک شیطنت کا مزہ لئے ہوئے ہے میں اور میرے شتونگڑے برابر پانی دیتے رہتے ہیں لہذا اب یہ اتنا بلند و بالا اور شاخوں کے دور دور تک پھیلاؤ والا درخت بن چکا ہے کہ اس کو گرانے یا جڑسے اکھاڑ پھینکنے کی کسی میں ہمت نہیں ۔

پہلا مشیر اپنی رائے دیتے ہوئے کہتا ہے

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تراس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام

شرح و تشریح

شیطان کی تقریر سن کر پہلا مشیر اور اس کی حکومت کا رکن اُٹھتا ہے اور شیطان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے میرے آقا اس میں کوئی شک نہیں کہ جس شیطانی نظام حیات کا آپ نے اپنی تقریر میں ذکر کیا ہے وہ بڑا پائدار اور مضبوط نظام ہے اور کسی کے بس کی بات نہیں کہ اسے تبدیل کر سکے یا اسے ختم کر سکے اور اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ جو نظام حیات ہم نے دنیا والوں کو دے رکھا ہے اس سے لوگ غلامی کی عادت میں پائدار سے پائدار ہوتے جا رہے ہیں۔ بلکہ غلامی ان کے مزاج اور ذہنیت میں رچ بس گئی ہے اور ہمارے نمائندوں کے آگے جو بادشاہ، نواب، وڈیرے، جاگیردار، زمیدار  وغیرہ کی شکل میں ہر جگہ موجود ہیں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔
معانی
محکم :پائدار،مضبوط۔ابلیسی نظام:شیطان کا دیا ہوا نظام حیات۔پختہ تر: زیادہ مضبوط۔خوئے غلامی: غلامی کی عادت۔عوام:سب لوگ یا عام لوگ۔


ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضہ ہے نمازِ بے قیام


شرح و تشریح
یہ لوگ جو ہماری تدبیر کے سامنے بے بس اور لاچار ہیں یہ آج سے نہیں ہمیشہ سے ہی ہمارے نظام کے پرستار چلے آ تے ہیں۔ اپنے آقاؤں کے آگے جھکنا ان کی قسمت بن چکی ہے ان کی زندگی کی مثال تو ایک ایسی نماز کی سی ہے جس میں قیام کرنے یعنی کھڑے ہونے کا رُکن موجود ہی نہیں ہے بلکہ صرف رکوع و سجود ہی ہے یعنی جھکنا ہی جھکنا ہے۔یہ اپنے آقاؤں کی غلامی کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اب اس غلامی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا انہیں خیال تک بھی نہیں آتا۔
معانی
ازل:جہان کی تخلیق سے پہلے کا وقت جس کی ابتدا معلوم نہیں کی جا سکتی۔مراد ہے ہمیشہ سے۔مقدر:قسمت۔سجود:سجدہ کرنا۔غریب: طنز کے طور پر کہاہے یعنی بے بس و بے کس لوگ۔فطرت: سرشست،ذہنیت۔قیام: کھڑے ہونا۔نماز بے قیام: ایسی نماز جس میں کھڑے ہونے کی نوبت ہی نہ آئے اور نمازی مستقل حالت سجدہ میں ہی رہے۔

آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیداتو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام

شرح و تشریح

یہ لوگ شیطانی نظام کے اتنے زیادہ غلام بن چکے ہیں کہ غلامی کی اس زندگی سے آزاد ہونے کی خواہش اول تو ان کے دلوں میں اب پیدا ہی نہیں ہوتی اور اگر کہیں پیدا ہوتی بھی ہے تو یا تو وہ ختم ہو جاتی ہے یا پھر کچی (ناپختہ) رہ جاتی ہے اور اس طرح کوئی بھی ہمارے نظام کی جکڑ بندی سے باہر نہیں نکل سکتا۔
معانی
خام: کچی،ناپختہ۔آرزو: خواہش۔

یہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام

شرح و تشریح

یہ ہماری لگاتار محنت اور کوششوں کا عقل کو حیران کر دینے والا نتیجہ ہے کہ آج تصوف (طریقت) اور دین (شریعت) کے میدانوں کے لوگ صوفیانہ اور دینی روح سے بیگانہ ہو کر بادشاہت کے غلام بن چکے ہیں وہ صوفی جن کے بوریا کے آگے کبھی تاج و تخت جھکتے تھے آج خود بادشاہوں کے تخت کا طواف کر رہے ہیں۔یہی صورتِ حال علمائے دین کی بھی ہے کل تک جوجابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے خوف نہیں کھاتے تھے آج مصلحت کا شکار ہو کر ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔
معانی
سعی پیہم: لگاتار کوشش۔ملوکیت: بادشاہت۔صوفی: تصوف و طریقت کو اپنانے والے۔کرامت: کسی صوفی سے اسی بات یا کام کا ہونا جسے عقل سمجھنے سے قاصر ہو۔(یہ ضروری نہیں کہ صرف صوفی سے ہو یہ کسی بھی اللہ کے نیک بندے سے ہو سکتی ہے)۔
طبعِ مشرق کے لئے موزوں یہی افیون تھی
ورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علمِ کلام!

شرح و تشریح

ہم نے مشرق کے رہنے والوں (مراد مسلمانوں ) کو جو مغرب کی بجائے مشرق میں زیادہ آباد ہیں دو نشہ آور چیزیں کھلا رکھی ہیں ایک قوالی اور دوسری کلام کا علم۔موجودہ پاکستان اور ہندوستان میں قوالی کو صوفیانہ نظام میں بڑا عمل دخل رہا ہے اور اسے روحانی جذبات میں اشتعال پیدا کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج صوفیانہ حلقوں میں تصوف کی اصل روح تو غائب ہو چکی ہے اور اب صرف قوالی پر زور ہے ایسی قوالی جو روح پر کوئی اثر مرتب نہیں کرتی۔ دوسری طرف دینی حلقوں کو دیکھیں تو وہاں بھی علمائے دین، دین کی اصل باتوں سے ہٹ کر لا یعنی مسائل پر بحث کرنے اور ان کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے دلیلوں کے بکھیڑوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس طرح ان دونوں حلقوں کے لوگ عمل سے اسی طرح بیگانہ ہو چکے ہیں جس طرح افیون کھانے والا کو ئی شخص ہر وقت اونگتا رہتا ہے اور زندگی کے عملی میدان میں قدم رکھتے ہوئے گھبراتا ہے۔
معانی
طبع مشرق: مشرق کا مزاج ،مشرقی لوگوں کی طبیعت۔کم تر:زیادہ کم۔موزوں: مناسب۔افیون:ایک نشہ آور چیز جو نشہ کرنے والے کو عمل سے بیگانہ کر دیتی ہے۔قوالی: وہ راگ جو صوفیانہ محفلوں میں روح کی بالیدگی کے لئے گایا جاتا ہے۔علم کلام: کلام کا علم ۔یہ ایسا علم ہے جس میں دین کی باتوں کو عقل اور دلیل سے ثابت کیا جاتا ہے ۔

ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام

شرح و تشریح

اگر اس دور کے مسلمانوں میں مکہ معظمہ جانے اور وہاں جا کر کعبہ شریف کے گرد چکر لگانے اور اہم رکن اسلام حج کی رسوم ادا کرنے کی کوئی صورت باقی رہ گئی ہے تو وہ محض ایک اجتماع اور بھیڑکی سی صورت ہے۔کعبہ کا طواف کرنے اور حج کے لئے مکہ معظمہ میں جمع ہونے کا اصل مقصد تو مسلمانوں میں قوت، اتفاق اور مرکزیت پیدا کرنا ہے۔لیکن آج اس کے برعکس نفاق   کی صورتِ حال نظر آتی ہے۔مسلمانوں کے اندر وہ قوت جو باطل سے ٹکرانے کے لئے ہر وقت تیار رہتی تھی اب ختم ہو چکی ہے۔کبھی مسلمان اپنے دشمنوں کے لئے ننگی تلوار کی مانند تھاجو ہر وقت ان کو کاٹنے پر امادہ نظر آتی تھی لیکن آج یہ صورتِ حال ختم ہو چکی ہے اور مسلمانوں میں اللہ کی راہ میں لڑنے کا جزبہ ختم ہو چکا ہے۔ایسی صورت میں ہمیں مسلمانوں کے حج کے اجتماع اور کعبے کے گرد چکر لگا کر اس سے وابستگی کے اظہار سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
معانی
طواف:کعبے کے گرد چکر لگانا۔حج: ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن کو مکہ معظمہ جا کر خانہ کعبہ کا طواف کرنے اور بعض دوسری رسومات (مناسک)ادا کرنے سے تعلق رکھتا ہے ۔کند: جس میں کاٹنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہو۔ہنگامہ:شورش ،بھیڑ۔مومن: اہل ایمان ،اللہ اور رسولﷺ پر صحیح ایمان رکھنے والا۔،پکا سچااور صحیح مسلمان۔تیغ: تلوار۔نیام: تلوار کا خول،جس میں تلوار کو اس وقت رکھا جاتا ہے جب چلانا مقصود نہ ہو۔تیغ بے نیام: خول کے بغیر تلوار،ننگی تلوارجو ہر وقت دشمن کو کاٹنے کے لئے تیار ہو۔
کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید؟
ہے جہاد اس دور میں مردِ مسلماں پر حرام!

شرح و تشریح

برِصغیرکے ایک علاقے اور متحدہ پنجاب کے ایک قصبے قادیان میں انگریز عہدِ حکومت میں ایک شخص بنام مرزا غلام احمد پیدا ہوا تھا جس نے دین کی صدیوں کی روح کے خلاف یہ نیا حکم یا فتویٰ دیا تھا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ کے دشمنوں سے لڑنا اس عہد میں دینی اور شرعی اعتبار سے ناجائز ہے اور انگریز جو ہم پر حکمران ہیں ان کے خلاف آزادی کی جدوجہد کرنا مسلمانوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔ یہ شخص خود کو موعود مسیح کہتا تھا۔مراد تھی کہ میں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں جسے قیامت سے پہلے روئے زمین پر آکر اسلام کو تقویت پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام جس کے اس طرح آنے کا وعدہ کیا گیا ہے وہ مریم علیہ السلام کا بیٹا نہیں بلکہ میں ( مرزا) ہوں۔ اس پر برِصغیر کے مسلمانوں میں خصوصاً اور دنیا کے مسلمانوں میں عموماً سخت ردِ عمل ہوا۔ مسیح ہونے کا دعویٰ کرنے والے شخص نے جہاد کے خلاف شرعی حکم یعنی فتویٰ بھی صادر کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ اس عہد میں جہاد کرنا (اللہ کی راہ میں لڑنا) مسلمانوں پر حرام ہے۔
اس شعر میں اس نئے فتویٰ کی طرف اشارہ ہے جو چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں نہیں دیا گیا تھا۔اس نے یہ فتویٰ اس لئے صادر کیا تھا کہ برِصغیر کے مسلمان اپنے آقا انگریز کے خلاف نہ اُٹھ کھڑے ہوں۔ یہ صورتِ حال مسلمانوں کی ناامیدی پر دلالت کرتی تھی۔ اور ان کو ہمیشہ کے لئے مایوس ہو کر انگریز آقاوں کی غلامی اختیار کرنے کی طرف راغب کرتی تھی۔
معانی
نومیدی:ناامیدی۔حجت:دلیل۔فرمانِ جدید: نیا حکم،جدید دور میں دیا گیا حکم۔فرمان: حکم،فتویٰ۔جہاد: اللہ کی راہ میں لڑنا۔اس دور میں: عہد حاضرمیں۔حرام: دینی اعتبار سے ناجائز۔

دوسرا مشیر

خیر ہے سلطانی جمہور کا غوغا کہ شر
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر!

شرح و تشریح

پہلے مشیر کی باتیں سن کر شیطانی حکومت کا ایک اور رکن اٹھتا ہے اور اپنے سے پہلے کو کہتا ہے تیری ساری باتیں درست ہیں لیکن تو نے جہان میں پیدا ہونے والے ایک نئے فسادی نظام کا ذکر نہیں کیا جس کا نام جمہوریت ہے۔ کیا تجھے اس کی خبر نہیں ہے؟ تو ہمیں اس کے متعلق بتا کہ یہ ہمارے لئے اچھائی کی بات ہے یا بُرائی کی۔ میرے خیال میں جمہوریت کے نام پر یہ بھی ایک شاہی نظام ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سلطانی یا بادشاہت کے نظام میں ایک شخص با اختیار ہوتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے لیکن جمہوریت کے نظام میں جس میں عوام خود اپنی رائے سے حکومت چلانے کے لئے نمائندے منتخب کرتے ہیں لہذا یہی سلطانی روح ایک شخص کی بجائے چند اشخاص میں داخل ہو جاتی ہے۔ جو وزیر کہلاتے ہیں۔ جو کام بادشاہت میں فردِ واحد کرتا ہے وہی کام جمہوریت میں یہ منتخب شدہ لوگ وزیر بن کر چند خاندانوں اور چند افراد کے ایک مجموعہ کی صورت میں سر انجام دیتے ہیں ۔ لہذا اس صورتِ حال کے پیشِ نظر اے میرے ساتھی رکنِ حکومت، یہ بتا کہ یہ نظامِ جمہوریت جو مغرب نے دنیا کے ملکوں کو دیا ہے درست ہے یا غلط؟ اچھا ہے یا بُرا؟۔
معانی
خیر: اچھائی،نیکی۔شر: بدی، برائی۔غوغا: شور۔فتنہ: فساد۔

پہلا مشیر

ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو،کیا اس سے خطر!
شرح و تشریح
پہلا مشیر دوسرے مشیر کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میں دنیا میں اُٹھنے والے اس نئے فسادی نظام اور فتنہ سے با خبر ہوں جس کا نام مغربی جمہوریت ہے۔ اور میں دنیا کے معاملات پر گہری نظر رکھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ مغربی جمہوریت کے پیچھے ملوکی یا شاہی روح ہی کارفرما ہے۔ جب صورتِ حال یہ ہے تو پھر ہمیں اس جمہوری نظام سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہ بھی ہماری پیداوار ہی ہے۔
معانی
جہاں بینی: جہان کے معاملات پر نظر رکھنا۔ملوکیت کا پردہ: بادشاہت کی روح جس کے پیچھے کار فرما ہو۔خطر: ڈر۔

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر

شرح و تشریح
جب ہم نے دیکھا کہ آدمی میں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ شعور اجاگر ہواکہ وہ اپنی قدر و قیمت کو پہچان سکے اور اپنے حقوق حاصل کرنے کا اہل ہو سکے تو ہم نے اس کے ذہن و دل میں یہ بات ڈال دی کہ اگر بادشاہی نظام میں تمہاری کوئی قدر و منزلت نہیں تو تم خود اپنے لئے حکران منتخب کر لیا کروجو تم میں سے ہی ہو گاوہ تمہارے حقوق کا خیال بھی رکھے گا۔ اسی کو ہم نے جمہوریت کا نام دے دیا ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ منتخب شدہ حکمران بھی وہی حاکمانہ اور بادشاہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جو ایک حکمران بحیثیت بادشاہ کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ایک شخص یہ کام کرتا ہے اور جمہوریت میں چند اشخاص یا خاندان مل کر وہی کچھ کرتے ہیں۔ اس لئے اے میرے رفیق فکر مند ہونے کی 
ضرورت نہیں ہے۔ یہ جمہوری نظام بھی ہمارا ہی پیدا کردہ ہے اس نظام کا لباس ضرور جمہوری ہے لیکن اند ر جسم شاہی ہے۔

معانی
آدم: مراد بنی نو ع آدم۔خود شناس: اپنے آپ کو پہچاننے والے۔ خود نگر: اپنے آپ کو دیکھنے والے۔

کاروبارِ شہر یاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجودِ میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر

شرح وتشریح

بادشاہی نظامِ حکومت کا دارومدار اور انحصار کسی امیر یا بادشاہ کے وجود پر نہیں بلکہ اس کی اصلیت امیری  اور شاہی رویہ پر ہے۔ یہی امیری یا شاہی رویہ اگر ہم جمہوریت میں پیدا کر دیں تو اس کے ذریعہ منتخب شدہ ارکانِ حکومت وہی کچھ کریں گے جو کچھ سلطانی نظام میں ہوتا ہے۔
معانی
کاروبار شہر یاری: بادشاہی نظام چلانے کا طریقہ۔حقیقت: اصلیت۔میر: امیر۔سلطان:بادشاہ۔
منحصر: انحصار ہونا۔

مجلسِ ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر

شرح و تشریح

چاہے کوئی منتخب شدہ اسمبلی یا پارلیمنٹ ہو اور چاہے کسی بادشاہ کا طرز حکومت ہو دونوں کا مقصود ایک ہی ہے۔ اور وہ ہے دوسروں کو محنت مزدوری پر لگا کر ان کی روزی کو لوٹنا اور انہیں محتاج و نادار رکھنا۔ تم نے دیکھا نہیں کہ ایران کے بادشاہ پرویز نے فرہاد کی محبوبہ حاصل کرنے اور اپنی ملکہ بنانے کے لئے فرہاد کو یہ کہہ کر پہاڑ کھودنے پر لگا دیا تھا کہ اگر تو اس میں سے نہر نکال لائے گا تو شیریں تجھے مل جائے گی، وہ بے چارہ اس کام میں لگ گیا اور پرویز نے شیریں کو اپنی ملکہ بنا لیا۔ اس ایک مثال سے تم شاہی نظام کے رویہ کا اندازہ لگا سکتے ہو۔جمہوریت میں بھی یہی رویہ موجود ہوتا ہے۔
معانی
مجلس ملت: ملی مجلس،قومی اسمبلی۔پرویز: ایران کے ایک بادشاہ کا نام جس نے اپنے وقت کے ایک عاشق کو جس کا نام فرہاد تھاپہاڑ کھودنے پر لگا دیااور خود اس کی محبوبہ کو جس کا نام شیریں تھا اپنے گھر ڈال لیا۔پرویز کا نام بطور شاہی نظام کے یا حکمران کی علامت طور پر لیا گیا ہے۔

تونے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چن گیز سے تاریک تر!

شرح و تشریح
موجودہ طرز کا جمہوری اور پارلیمانی نظام دنیا والوں کو اہل مغرب یعنی یورپ والوں سے ملا ہے۔تم اے میرے رفیق اسے بہ نظر غور دیکھو اس کا ظاہر تو بڑا چمک دارنظر آئے گا لیکن اس کے اندر جو روح ہے وہ دنیا کے ظالم ترین بادشاہ اور فاتح چن گیز سے بھی زیادہ سیاہ ہے اس نظام میں منتخب شدہ ارکانِ حکومت اپنے منتخب کرنے والوں پر جو ستم ڈھاتے ہیں وہ چن گیزیت کو بھی بھلا دیتے ہیں۔

معانی
مغرب:برِاعظم یورپ۔روشن: چمک دار۔اندروں: اندر۔تاریک تر: زیادہ سیاہ۔چنگیز: ایک فاتح کا نام ہے جس کا تعلق ملک منگولیا(ایشیاء)سے تھاجس نے اپنی فتوحات کے دوران اتنے ظلم کئے تھے کہ اس کا نام تاریخ میں ایک بہت بڑے ظالم کی حیثیت سے موجود و مشہور ہے۔

تیسرا مشیر

روحِ سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطرار
ہے مگر کیا اُس یہودی کی شرارت کا جواب؟

شرح وتشریح
پہلے مشیر سے جمہوری نظام کی وضاحت سن کر شیطان کی حکومت کا ایک اور رکن کہتا ہے کہ اگر جمہوری نظام شاہی نظام سے بدتر اور چنگیز کی بربریت سے زیادہ سیاہ ہے توہمیں بے چین ہونے کی واقعی ضرورت نہیں ہے۔لیکن ایک یہودی کارل مارکس نے دنیا کو اشتراکی ،یا کیمونسٹ نظام دے کر ہمارے خلاف جو شرارت کی ہے اس کا تمہارے پاس کیا کیا جواب ہے۔

معانی
روح سلطانی:پادشاہی روح۔اضطراب: بے چینی،بے قراری۔ اس یہودی: ایک شخص بنام کارل مارکس کی طرف اشارہ ہے جس نے سرمایہ نامی ایک کتاب لکھ کر دنیا کو اشتراکی نظام یا کمیونزم دیا۔
وہ کلیم بے تجلی ، وہ مسیحِ بے صلیب
نیست پیغبر و لیکن در بغل دارد کتاب

شرح و تشریح
اس یہودی کی طرف اشارے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے تیسرا مشیر کہتا ہے کہ یہ وہ یہودی ہے جس کو جمہوری اور شاہی نظام کی چکی کے نیچے پسے ہوئے لوگ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا درجہ دیتے ہیں۔اس لئے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کوفرعون کے ظلم سے بچایا تھااور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے غریبوں اور بے کسوں کو سینے سے لگایا تھا اسی طرح یہ یہودی بھی اپنے دئیے گئے اشتراکی نظام کے ذریعے غریبوں،مزدوروں،کسانوں اور بے بسوں کو شاہی اور جمہوری نظام کے فرعونوں اور غارت گروں کے ظالمانہ ہاتھوں سے بچا کر خود ان کو حکمران بننے کا طریقہ بتاتا ہے۔بس فرق ہے تو صرف یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو خدا کی تجلی اور نور کا مشاہدہ کرتے تھے اور اس سے باتیں کرتے تھے لیکن یہ یہودی خدا کا انکار کرتا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح یہ بھی غریبوں کو سر بلند کرنے کا طریقہ بتاتا ہے لیکن یہ سولی پر نہیں چڑھایا گیاکیونکہ یہ پیغبر نہیں تھاایک تیسرا اور واضع فرق یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو اس لئے آسمانی کتابیں ( توریت اور انجیل) اُتریں تھیں کہ وہ پیغبرِ خدا تھے لیکن یہ یہودی پیغبر تو نہیں ہے لیکن توریت اور انجیل کی طرح ایک کتاب ضرور رکھتا ہے یہ الگ بات ہے کہ یہ غیر الہامی ہے۔اور اس کتاب کا نام سرمایہ ہے اور جسے یورپ کے مزدور اور کسان طبقہ میں مذہبی کتابوں کی طرح عزت دی جاتی ہے ۔حالانکہ یہ ایک بندے کی تصنیف ہے۔

معانی
کلیم: مشہور پیغبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لقب ہے جنہیں کوہِ طور پر خدا وند تعالیٰ کی تجلی نصیب ہوئی تھی اور وہ اس سے گفتگو کرتے تھے اور جن کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنا ہاتھ بغل سے نکال کر ظاہر کرتے تھے تو وہ چمکتا تھا۔کلیم کے لفظی معنی ہیں باتیں کرنے والا۔مسیح بے صلیب: مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو خدا کے بر گزیدہ پیغبر تھے اور جنہیں عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق صلیب پر یعنی سولی پر لٹکا دیا گیا تھا۔مسیحِبے صلیب : مراد ایسا مسیح جسے سولی پر لٹکایا نہ گیا ہو۔نیست: نہیں ہے۔دربغل : بغل میں۔دارد: رکھتا ہے۔

کیا بتاوں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لئے روزِ حساب!

شرح و تشریح
اس ابلیسی نظام کے انکار کرنے والے یہودی کی نگاہ نے ملوکیت اور جمہوریت پر پڑے ہوئے پردوں کو جلاکر اس کے پیچھے ان نظاموں کی اصل خربیوں کو دیکھ لیا اور خود اپنی طرف سے ایک نیا نظام حیات دیا جس کی وجہ سے مشرق و مغرب کی قوموں کے پسے ہوئے اور ستائے ہوئے فاقہ کش ،غریب ،مزدور اور کسان اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے اس طرح جاگ اُٹھے جیسے قیامت کے روز مردے جاگ اُٹھیں گے۔ان پسے ہوئے طبقات کی زندگیاں ملوکی اور جمہوری نظاموں میں مردوں کی طرح تھیں اب ان میں زندہ رہنے اور زندہ رہنے کے لئے ظالموں سے نپٹنے کا شعور پیدا ہو گیا ہے۔

معانی
کافر: انکار کرنے والا۔پردہ سوز: پردہ جلانے والا ۔روز حساب: حساب کا دن ،قیامت کا دن ۔

اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گاطبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!

شرح و تشریح
اس شعر میں اس عظیم اشتراکی انقلاب کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعے عوام نے ایک شخص بنام لینن کی قیادت میں اکٹھے ہو کر روس کے شہنشاہ زار روس کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھااور حکمرانوں کو قتل کر دیا تھا۔بڑے بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں کی زمینیں چھین لی تھیں ۔کارخانوں کے مالکوں کو کارخانوں سے بے دخل کر کے ان پر اپنا کنٹرول حا صل کر لیا تھااور سارے ذرائع معیشت کو مزدوروں اور کسانوں کی بنائی ہوئی حکومت کے قبضے میں کر دیا تھا۔شیطان کا مشیر اسے عوام کے مزاج میں پیدا ہونے والا فساد کہتا ہے جس کے ذریعے انہوں نے غلام ہوتے ہوئے ایسے اقدامات کئے کہ ان کے مالک تہس نہس ہو کر رہ گئے۔آقاؤں کے خیموں کی رسیاں توڑ کر ان کو گرا دینے کا یہی مفہوم ہے کہ انہیں سارے ذرائع سے محروم کر دیا۔یہ دنیا میں پہلا اشتراکی انقلاب اور اس کے ذریعے پہلی اشتراکی نظام والی حکومت قائم ہونے کا عمل تھاجس کے بعد یہ دو سرے ملکوں تک پھیل گیا۔شیطان کا یہ مشیر اسے اپنی شیطانی حکومت کے لئے چیلنج قرار دیتا ہے اور پریشان ہے۔

معانی
بندوں: غلا موں۔ آقاؤں : مالکوں۔طناب: رسی

چوتھا مشیر

توڑ اس کا رومۃ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ
آل سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب

شرح و تشریح
چوتھا مشیر تیسرے مشیر کی پریشانی اور بے قراری دیکھ کر کہتا ہے کہ اشتراکی نظام سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ہم نے اس کو روکنے اور ختم کرنے کے لئے اطالیہ (اٹلی) میں ایک شخص بنام مسولینی پیدا کر دیا ہے (مطلب کھڑا کر دیا ہے) جس نے فاشسٹ نظام نافذکر کے اشتراکی نظام کا راستہ روک دیا ہے۔فاشسٹ نظام میں ساری طاقتیں ایک شخص کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔وہ اطالیہ(اٹلی) کو کبھی عظیم رومن سلطنت کا مرکز تھااس سلطنت کے پرانے محلوں میں اب مسولینی موجود ہیجس نے قدیم رومن ہیرو سیزر کی اولاد کو یعنی اہل اطالیہ کو یہ خواب دیکھایا ہے کہ میرے دئے گئے فاشسٹ نظام کے ذریعے ہم پھر قدیم رومن سلطنت کی سی وسعت اور عروج حاصل کر لیں گے۔یہ قدیم رومن 
سلطنت قبل از مسیح یورپ،ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقوں پر مشتمل تھی جو اسلامی عہد تک کافی سمٹ چکی تھی ۔اس رہی سہی سلطنت کو مسلمانوں نے ختم کر دیا تھا۔
معانی
توڑ: روک کرنا،خاتمہ،مٹانا،مقابلہ میں۔رومۃ الکبریٰ: عظیم رومن سلطنت جو قبل از مسیح قائم تھی۔ایوانوں: محلوں ۔آل سیزر: سیزر کی اولاد سیزر 
قدیم ملک روم کا جسے آج کال اٹلی (یورپ کا ایک ملک) کہتے ہیں اور قدیم رومن سلطنت کا عظیم ہیرو تھا۔سیزر کا خواب: جو خواب کہ سیزر نے کبھی عظیم رومن سلطنت قائم کرنے کے لئے دیکھا تھا۔

کون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا
گاہ بالد چوں صنوبر ،گاہ نالد چوں رباب

شرح و تشریح
بحرہ روم کی موجوں سے کون لپٹا ہوا ہے ۔وہ مسولینی کا عظیم بحری بیڑا ہے جو اس سمندر پر حاکمیت قائم کرنے کے لئے اور سمندر پار کے افریقی ممالک پر قبضہ جمانے کے لئے کبھی ابھرتا ہوا اور کبھی سائرن بجاتا ہوا اپنے کام میں مصروف ہے ۔اس شعر کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسولینی بحرہ روم کو تسخیر کرنے کے لئے اپنی قوم سامنے ولولہ انگیز تقریروں کے ذریعہ کبھی ان کو صنوبر کے درخت کی مانند (بلند حوصلہ عطا کر کے) کھڑا کر دیتا ہے اور کبھی ان کو رباب کی مانند کھوئی ہوئی عظمت پر خود رو کر اور ان کو رلا کر ان میں اسے بحال کرنے کا ولولہ پیدا کر رہا ہے اور اس کے لئے بحرہ روم پر اپنی حاکمیت قائم کر کے اور اسے عبور کر نے کے بعد افریقی ممالک پر قبضہ جما کر عملاًان کو سر بلند ہونے کا ثبوت مہیا کر رہا ہے۔یاد رہے کہ مسولینی نے دوسری جنگ عظیم (۱۹۳۹ تا ۱۹۴۵) سے پہلے افریقہ کے ممالک حبشہ ،ایریٹیریا ، طرابلس وغیرہ پر قبضہ کر لیا تھا۔دوسری جنگ عظیم کے شروع ہی میں مسولینی کو اتحادیوں نے زبردست شکست دی جس کے بعد یہ ممالک اس کے تسلط سے نکل گئے۔

معانی
بحرروم: یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک سمندر۔گاہ: کبھی۔صنوبر: ایک قد آور درخت ۔بالد: ابھرتاہے۔نالد: روتا ہے۔چوں: مانند ۔ رباب : ایک قسم کا ساز۔

تیسرا مشیر

میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب

شرح و تشریح
چوتھے مشیر کی رائے سن کر تیسرا مشیر اسے کہتا ہے کہ میں تو مسولینی کی سیاست اور نظام کو نہیں مانتا کیونکہ اس نے یہ سوچاکہ اس کا انجام کیا ہو گا۔اس کے انجام کے طور ہر اہل
یورپ کی سیاست کا پول مزید کھل جائے گااور اس طر ح اشتراکی نظام کو مزید تقویت حاصل ہو گی۔لوگ مغربی جمہوریت اور ملوکیت کے ظلم کی طرح مسولینی کے فاشسٹ نظام کے ظلم کی وجہ سے اس سے بھی تنگ آجائیں گے جس کے نتیجے میں اشتراکیت کو ابھرنے کامزید موقع مل جائے گا۔
معانی
عاقبت بینی: انجام کو دیکھ لینا۔قائل: ماننا۔افرنگی سیاست: اہل یورپ کی سیاست ۔بے حجاب: بے پردہ۔

پانچواں مشیر

ابلیس کو مخاطب کر کے

اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم استوار !
تو نے جب چاہا، کیا ہر پردگی کو آشکار

شرح و تشریح
اے میرے آقا تیری سانس کی گرمی سے دنیا کا کام چل رہا ہے۔اگر لوگوں میں تیرے سینہ کی حرارت نہ پہنچی ہوتی تو یہ دنیا کے ہنگامے سردرہتے تو وہ ہستی ہے کہ دنیا کی پوشیدہ باتیں بھی تجھ پر ظاہر ہیں اس لئے ہمیں یہ بتا کہ اس اشتراکی نظام سے ابلیسی نظام کو کیا خطرات ہیں۔

معانی
سوز نفس: سانس کی تپش۔کارِ عالم: دنیا کا کام ۔ استوار: پائیدارہونا،قائم ہونا۔ پردگی: چھپی ہوئی ۔ آشکار: ظاہر۔

آب و گلِ تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز
ابلہِ جنت تری تعلیم سے دانائے کار

شرح وتشریح
یہ جہان جو آگ،پانی،مٹی اور ہوا کے عناصر سے بنا ہوا ہے اور یہ آدم جو انہی عناصر سے وجود میں آیا ہے ۔تیری دی گئی گرمی کی وجہ سے حرارت اور رنگینی کا مجسمہ ہے ۔اور جنت کا یہ بھولا یعنی آدم تیری تعلیم کی وجہ سے ہی کاروبار دنیا سے آشنا ہے